Brailvi Books

راہِ علم
45 - 109
محنت ، مواظبت اورقوت ارادہ کا بیان
    ایک طالب کیلئے سخت محنت کرنا ، اوراس پر پابندی کرنا اورثابت قدمی رکھنا بہت ضروری ہے ۔ جیسا کہ اس کی طرف اللہ جل جلالہ نے ان آیات میں اشارہ کیا ہے :
وَالَّذِیْنَ جَاھَدُوْا فِیْنَا لَنَھْدِیَنَّھُمْ سُبُلَنَا۔
ترجمۂ کنزالایمان : اورجنہوں نے ہماری راہ میں کوشش کی ضرورہم انہیں اپنے راستے دکھادیں گے ۔(پ21،العنکبوت:96)
    اسی طرح یہ فرمایا :
یَا یَحْیٰی خُذِ الْکِتَابَ بِقُوَّۃٍ۔
 (پ۱۶،مریم:۲۱)
ترجمۂ کنزالایمان : اے یحیی  کتاب مضبوط تھام۔
    مشہورمقولہ ہے کہ :
    مَنْ طَلَبَ شَیْئًا وَجَدَّ وَجَدَ وَمَنْ قَرَعَ الْبَابَ وَلَجَّ وَلَجَ
    جو کسی چیز کی طلب میں محنت وکوشش کرتا رہا وہ اسے ایک دن ضرور پالے گا اورجو کسی دروازے کو کھٹکھٹائے اورمسلسل کھٹکھٹاتا ہی چلا جائے تو ایک دن وہ اس کے اندر ضرور داخل ہوجائے گا۔
    اسی طرح ایک اوردانا کا قول ہے :
    بِقَدْرِمَا تَتَمَنَّی تَنَالُ مَا تَتَمَنَّی
    تو جتنا کچھ حاصل کرنا چاہتاہے اتنا ضرور حاصل کریگا۔
    کہاجاتاہے کہ کچھ سیکھنے اورسمجھنے کیلئے تین افرا د کی کوشش ومحنت کا ہونا ضروری ہے ۔ وہ تین افراد یہ ہیں ۔
Flag Counter