Brailvi Books

راہِ علم
43 - 109
نے دیکھا کہ آپ رحمۃ اللہ علیہ تمام آئمہ حدیث سے سبقت لے گئے ۔
    ایک طالب علم کو چاہیے کہ دوران سبق بلا ضرورت استاد کے بالکل قریب نہ بیٹھے بلکہ استاد اورطالب علم کے درمیان کم از کم ایک کمان کا فاصلہ ہونا چاہیے کہ اس طرح بیٹھنے میں ادب کا پہلو غالب رہتاہے ۔
    ایک طالب علم کو اخلاق ذمیمہ سے احتراز کرنا چاہیے کیونکہ اخلاق ذمیمہ کی مثال معنوی طور پر کتے کی طرح ہے اورسرکار صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا :
لاَتَدْخُلُ الْمَلٰئِکَۃُ بَیْتاً فِیْہِ کَلْبٌ اَوْ صُوْرَۃٌ
 (صحیح مسلم،باب تحریم التصویر،الحدیث۲۱۰۶،ص۱۱۶۵ )
ترجمہ: رحمت کے فرشتے ایسے گھر میں داخل نہیں ہوتے کہ جہاں کتا یا تصویر ہو ۔
    لہذا اخلاق ذمیمہ سے احتراز کرنا ضروری ہے کہ انسان علم کو فرشتے ہی کے ذریعے سیکھتاہے ۔ برے اخلاق کو جاننے کے لیے ''کتاب الاخلاق''کا مطالعہ کیا جائے کہ اس مختصر سی کتاب میں اخلاق ذمیمہ کی تفصیل بیان نہیں کی جاسکتی ،لہذا ایک طالب علم کو خصوصاًتکبر سے ضرور بچنا چاہیے کہ تکبر کے ساتھ علم حاصل نہیں ہوسکتا۔
    جیسا کہ ایک شاعر کہتاہے :
         اَلْعِلْمُ حَرْبٌ لِلْفَتَی الْمُتَعَالِی 		         کَالسَّیْلِ حَرْبٌ لِلْمَکَانِ الْعَالِی
ترجمہ: علم ایک متکبر جوان کے لیے دشمن ہے بالکل اسی طرح جیسے ایک اونچے مکان کیلئے پانی کا سیلان دشمن ہے ۔
اسی طرح ایک طالب علم کو خوب محنت کرنی چاہیے ، چنانچہ ایک شاعرکہتاہے کہ :
Flag Counter