(صحیح مسلم،باب تحریم التصویر،الحدیث۲۱۰۶،ص۱۱۶۵ )
ترجمہ: رحمت کے فرشتے ایسے گھر میں داخل نہیں ہوتے کہ جہاں کتا یا تصویر ہو ۔
لہذا اخلاق ذمیمہ سے احتراز کرنا ضروری ہے کہ انسان علم کو فرشتے ہی کے ذریعے سیکھتاہے ۔ برے اخلاق کو جاننے کے لیے ''کتاب الاخلاق''کا مطالعہ کیا جائے کہ اس مختصر سی کتاب میں اخلاق ذمیمہ کی تفصیل بیان نہیں کی جاسکتی ،لہذا ایک طالب علم کو خصوصاًتکبر سے ضرور بچنا چاہیے کہ تکبر کے ساتھ علم حاصل نہیں ہوسکتا۔
جیسا کہ ایک شاعر کہتاہے :
اَلْعِلْمُ حَرْبٌ لِلْفَتَی الْمُتَعَالِی کَالسَّیْلِ حَرْبٌ لِلْمَکَانِ الْعَالِی
ترجمہ: علم ایک متکبر جوان کے لیے دشمن ہے بالکل اسی طرح جیسے ایک اونچے مکان کیلئے پانی کا سیلان دشمن ہے ۔
اسی طرح ایک طالب علم کو خوب محنت کرنی چاہیے ، چنانچہ ایک شاعرکہتاہے کہ :