| راہِ علم |
کسی دانا کا قول ہے کہ جس نے کسی علمی بات کو ہزار بار سننے کے بعد اس کی ایسی تعظیم نہیں کی جیسی تعظیم اس نے اس مسئلے کو پہلی مرتبہ سنتے وقت کی تھی تو ایسا شخص علم کا اہل نہیں ۔
اگر کوئی طالب علم کسی نئے فن کو سیکھنا چاہتاہے تو اسے چاہیے کہ اس فن کا انتخاب خود اپنی رائے سے نہ کرے بلکہ اس معاملے کو اپنے استاد کے سپر د کردے کیونکہ ایک استاد ان کاموں میں بہت تجربہ رکھتاہے وہ جانتاہے کہ کونساکام کس کیلئے مناسب ہے اوراس کام کے لیے کون زیادہ لائق ہے ۔
ہمارے استاد محترم شیخ برہان الدین رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرمایا کرتے تھے کہ پہلے زمانے کے طالب علم اپنے تعلیمی امور کو اپنے اساتذہ کے سپرد کردیا کرتے تھے ۔ اسی وجہ سے وہ لوگ اپنی مراد کو بھی پہنچ جاتے تھے اور اپنے مقاصد بھی حاصل کرلیا کرتے تھے لیکن آجکل کے طلبہ استاد کی راہنمائی کے بغیر مراد کو پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں ،لہذا ایسے طالب علم نہ تو اپنے مقصود تک پہنچتے ہیں اورنہ ہی انہیں علم وفقہ سے کوئی آگاہی ہوتی ہے ۔
حکایت ہے کہ امام محمد اسماعیل بخاری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ امام محمد رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی خدمت بابرکت میں حاضر ہوئے اورفقہ میں کتاب الصلوۃ سیکھنے لگے ۔ امام محمد رحمۃ اللہ علیہ نے جب ان کی طبیعت میں فقہ میں عدم دلچسپی اورعلم حدیث کی طرف رغبت دیکھی تو ان سے ارشادفرمایا تم جاؤ اورعلم حدیث حاصل کرو کیونکہ آپ نے اندازہ لگالیا تھا کہ ان کی طبیعت علم حدیث کی طرف زیادہ مائل ہے ۔ پس جب امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے استاد کا مشورہ قبول کیا اورعلم حدیث حاصل کرنا شروع کیا تو دیکھنے والوں