Brailvi Books

راہِ علم
41 - 109
    حضرت شیخ مجد الدین سرحکی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے حکایت ہے کہ انہوں نے فرمایا '' جب بھی ہم نے بے احتیاطی کے ساتھ باریک باریک اورچھوٹاچھوٹا کر کے لکھا تو سوائے شرمندگی کے کچھ ہاتھ نہ آیا، جب کبھی ہم نے کلام طویل سے صرف تھوڑا سا حصہ منتخب کر کے پیش کیا تب بھی شرمندگی اٹھانی پڑی اورجب ہم نے کسی تحریر کا مقابلہ اصل نسخہ سے نہیں کیا ہم اس وقت بھی شرمندہ ونادم ہوئے ۔''
اے عزیزطالب علم !
    مناسب یہ ہے کہ کتاب وغیرہ کا سائز مربع ہوکیونکہ یہ امام اعظم رضی اللہ عنہ کا پسندیدہ سائز ہے کہ اس کتاب کے اٹھانے ، رکھنے اور مطالعہ کرنے میں سہولت رہتی ہے ۔ نیز ایک طالب علم کو سرخ سیاہی کا استعمال بھی نہیں کرنا چاہیے کہ سرخ سیاہی استعمال کرنا بزرگان دین کا نہیں بلکہ فلاسفہ کا طریقہ کار ہے اورہمارے مشائخ میں سے بعض تو سرخ سیاہی کے استعمال کو مکروہ جانتے تھے ۔
تعظیم الشرکاء
    شرکاء درس اسلامی بھائیوں کی تعظیم وتکریم بھی تعظیم علم ہی کا حصہ ہے ۔ یادرہے کہ چاپلوسی اورخوشامد کرنا ایک مذموم کام ہے مگر علم دین حاصل کر نے کیلئے اگر خوشامد کی ضرورت پیش آئے تو طالب علم کو چاہیے کہ اپنے استاد اورطالب علم اسلامی بھائیوں کی خوشامد کرے تاکہ ان سے علمی طور پرمستفید ہواجاسکے ۔
    طالب علم کو چاہیے کہ وہ حکمت کی باتیں ادب واحترام کے ساتھ سنے اگرچہ وہ ایک مسئلے یا ایک کلمہ کو ہزار بار پہلے بھی سن چکا ہو۔
Flag Counter