| راہِ علم |
بزرگان دین کو وضو سے اس وجہ سے محبت تھی کہ علم نور ہے اوروضو بھی نور ہے،پس وضو کرنے سے علم کی نورانیت مزید بڑھ جاتی ہے ۔
طالب علم کیلئے یہ بھی ضروری ہے کہ وہ کتابوں کی طر ف پاؤں نہ کرے ، کتب تفاسیر کو تعظیماً تما م کتب کے اوپر رکھے اورکتاب کے اوپر کوئی دوسری چیز ہرگز نہ رکھی جائے ۔
ہمارے استاد محترم شیخ امام برہان الدین رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اپنے مشائخ میں سے کسی بزرگ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے حکایت بیان کرتے تھے کہ ایک فقیہ کی عادت تھی کہ دوات کوکتاب کے اوپر ہی رکھ دیا کرتے تھے تو شیخ نے ان سے فارسی میں فرمایا : ''برنیابی ''یعنی تم اپنے علم سے فائدہ نہیں اٹھا سکتے ۔
ہمارے استاد محترم امام اجل فخر الاسلام عرف قاضی خان رحمۃ اللہ علیہ فرمایا کرتے تھے کہ کتابوں پر دوات وغیرہ رکھتے وقت اگر تحقیر علم کی نیت نہ ہو تو ایسا کرنا جائز ہے مگر اولیٰ یہ ہے کہ اس سے بچا جائے ۔
طالب علم کیلئے یہ بھی ضروری ہے کہ وہ اپنی لکھائی کو عمدہ اورخوش خط بنائے بالکل باریک اورچھوٹا چھوٹا کر کے نہ لکھے اور بلا ضرورت حاشیہ کی جگہ ترک نہ کرے ۔
ایک مرتبہ امام اعظم رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کو دیکھا وہ بہت باریک باریک کر کے لکھ رہا تھا آپ نے اس سے فرمایا''اپنے خط کو اس قد ربے ڈھنگا بنا کر کیوں لکھ رہے ہو کہ اگر تم زندہ رہے تو اس لکھائی کی وجہ سے ندامت اٹھاؤ گے اوراگر مرگئے تو تمہارے بعد تمہیں برا بھلا کہا جائے گااور جب تم بوڑھے ہوجاؤ گے اورتمہاری آنکھیں کمزور ہوجائیں گی تو تم خود اپنے اس فعل پر نادم وشرمندہ ہوگے ۔