Brailvi Books

راہِ علم
38 - 109
عظمت کو ملحوظ رکھتے ہوئے میں نے کبھی بھی اس میں سے کچھ نہ کھایا ۔
    ایک مرتبہ شیخ شمس الآئمہ حلوانی رحمۃ اللہ علیہ کو کوئی حادثہ پیش آیا جس کی وجہ سے وہ بخارا سے نکل کر ایک گاؤں میں سکونت پذیر ہوگئے ۔ اس عرصے میں ان کے شاگرد ملاقات اورزیارت کیلئے حاضر ہوتے رہتے مگر ان کے ایک شاگردشیخ شمس الآئمہ زرنجی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ملاقات کیلئے حاضر نہ ہوسکے پھر جب ایک مرتبہ شیخ شمس الآئمہ حلوانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی ان سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے پوچھا کہ وہ ملاقات کیلئے کیوں نہیں آئے تو شمس الآئمہ زرنجی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے عرض کی کہ عالیجاہ! میں دراصل اپنی والدہ کی خدمت میں مشغول تھا اس لیے حاضر نہ ہوسکا تو آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا کہ تمہیں عمردرازی تو حاصل ہوگی مگر رونق درس نہ پاسکو گے اورایسا ہی ہوا کہ شیخ شمس الآئمہ زرنجی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا اکثر وقت دیہاتوں میں گزرا اوریہ کہیں بھی درس وتدریس کا انتظام نہ کرسکے ، کیونکہ جو شخص اپنے استاد کیلئے اذیت وتکلیف کا باعث بنے گا ، وہ علم کی برکتوں سے محروم ہوجاتا ہے ، اوروہ شخص علم سے کماحقہ فائدہ نہیں اٹھا سکتاجیسا کہ کسی شاعر نے کہا کہ:
         اِنَّ الْمُعَلِّمَ وَالطَّبِیْبَ کِلَا ھُمَا 		         لَایَنْصِحَانِ اِذَا ھُمَا لَمْ یُکْرَمَا
ترجمہ: استاد ہویا طبیب دونوں ہی اس وقت تک نصیحت نہیں کرتے جب تک ان کی عزت وتکریم نہ کی جائے ۔
         فَاصْبِر ْ لِدَائِکَ اِنْ جَفَوْتَ طَبِیْبَہُ 		         وَاقْنَعْ بِجَھْلِکَ اِنْ جَفَوْتَ مُعَلِّمَا
Flag Counter