Brailvi Books

راہِ علم
37 - 109
لے اوراستاد کے باہر آنے کا انتظار کرے ۔
    الغرض طالب علم کو چاہیے کہ ہر وقت استاد کی رضا کو پیش نظر رکھے اوراسکی ناراضگی سے بچے اوراللہ جل جلالہ کی نافرمانی والے کاموں کے علاوہ ہر معاملہ میں استاد کے حکم کی تعمیل کرے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں مخلوق کی فرمانبرداری جائز نہیں جیسا کہ سرکار صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
اِنَّ شَرَّ النَّاسِ مَنْ یُذْھِبُ دِیْنَہُ لِدُنْیَا غَیْرِہِ ۔
ترجمہ: لوگوں میں سے بدترین شخص وہ ہے جو کسی کی دنیا سنوارتے سنوارتے اپنے دین کو برباد کرڈالے۔
     استاد کی اولاد اوراس کے رشتہ داروں کی تعظیم وتوقیر بھی استاد کی تعظیم وتوقیر ہی کا ایک حصہ ہے۔ ہمارے استاد محترم صاحب ہدایہ شیخ الاسلام برہان الدین رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے یہ حکایت بیان کی کہ بخارا کے بلند پایہ آئمہ میں سے ایک امام کا واقعہ ہے کہ ایک مرتبہ وہ علم دین کی مجلس میں تشریف فرماتھے کہ یکایک انہوں نے بار بار کھڑا ہونا شروع کردیا،لوگوں نے ان سے اسکی وجہ پوچھی تو فرمایاکہ میرے استاد محترم کا صاحبزادہ بچوں کے ساتھ گلی میں کھیل رہا تھا، کبھی کبھی کھیلتا ہوا وہ مسجد کی طرف آنکلتا ، پس جب میری نظر اُن پر پڑتی تو میں اپنے استاد کی تعظیم میں انکی تعظیم کیلئے کھڑا ہوجاتا۔
    امام فخرالدین ارسابندی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ مَرْو شہر میں رئیس الائمہ کے مقام پر فائز تھے اورسلطان وقت آپ کا بے حد ادب واحترام کیا کرتاتھا۔ آپ فرمایا کرتے تھے کہ مجھے یہ منصب اپنے استاد کی خدمت کرنے کی وجہ سے ملا ہے کہ میں اپنے استاد کی خدمت کیا کرتاتھا یہاں تک کہ میں نے ان کا تین سال تک کھانا پکایا اوراستاد کی
Flag Counter