استاد کی اولاد اوراس کے رشتہ داروں کی تعظیم وتوقیر بھی استاد کی تعظیم وتوقیر ہی کا ایک حصہ ہے۔ ہمارے استاد محترم صاحب ہدایہ شیخ الاسلام برہان الدین رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے یہ حکایت بیان کی کہ بخارا کے بلند پایہ آئمہ میں سے ایک امام کا واقعہ ہے کہ ایک مرتبہ وہ علم دین کی مجلس میں تشریف فرماتھے کہ یکایک انہوں نے بار بار کھڑا ہونا شروع کردیا،لوگوں نے ان سے اسکی وجہ پوچھی تو فرمایاکہ میرے استاد محترم کا صاحبزادہ بچوں کے ساتھ گلی میں کھیل رہا تھا، کبھی کبھی کھیلتا ہوا وہ مسجد کی طرف آنکلتا ، پس جب میری نظر اُن پر پڑتی تو میں اپنے استاد کی تعظیم میں انکی تعظیم کیلئے کھڑا ہوجاتا۔
امام فخرالدین ارسابندی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ مَرْو شہر میں رئیس الائمہ کے مقام پر فائز تھے اورسلطان وقت آپ کا بے حد ادب واحترام کیا کرتاتھا۔ آپ فرمایا کرتے تھے کہ مجھے یہ منصب اپنے استاد کی خدمت کرنے کی وجہ سے ملا ہے کہ میں اپنے استاد کی خدمت کیا کرتاتھا یہاں تک کہ میں نے ان کا تین سال تک کھانا پکایا اوراستاد کی