| راہِ علم |
اے عزیز طالب علم! ایک طالب علم اس وقت تک علم حاصل نہیں کرسکتا اورنہ ہی اس سے نفع اٹھا سکتاہے جب تک کہ وہ علم ، اہل علم اوراپنے استاد کی تعظیم وتوقیر نہ کرتا ہو۔ کسی نے کہا ہے کہ :
مَاوَصَلَ مَنْ وَصَلَ اِلَّا بِالْحُرْمَۃِ وَمَا سَقَطَ مَنْ سَقَطَ اِلَّابِتَرْکِ الْحُرْمَۃِ
جس نے جو کچھ پایا ادب واحترام کرنے کے سبب ہی سے پایا اورجس نے جوکچھ کھویا وہ ادب واحترام نہ کرنے کے سبب ہی کھویا ۔
کہا جاتاہے کہ :
اَلْحُرْمَۃُ خَیْرٌ مِنَ الطَّاعَۃِ
ادب واحترام کرنا اطاعت کرنے سے زیادہ بہترہے ۔
آپ دیکھ لیجئے کہ انسان گناہ کرنے کی وجہ سے کبھی کافر نہیں ہوتا بلکہ اسے ہلکا سمجھنے کی وجہ سے کافر ہوجاتاہے ۔
تعظیم استاد
اے عزیز طالب علم! استاد کی تعظیم کرنا بھی علم ہی کی تعظیم ہے ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
اَنَا عَبْدُمَنْ عَلَّمَنِیْ حَرْفًا وَاحِدًا اِنْ شَاءَ بَاعَ وَاِنْ شَاءَ اَعْتَقَ وَاِنْ شَاءَ اسْتَرَقَّ
ترجمہ: جس نے مجھے ایک حرف سکھایا میں اس کا غلام ہوں چاہے اب وہ مجھے فروخت کردے، چاہے تو آزاد کردے اورچاہے تو غلام بنا کر رکھے ۔