| راہِ علم |
عَدْوَی الْبَلِیْدِ اِلَی الْجَلِیْدِ سَرِیْعَۃ کَالْجَمْرِ یُوْضَعُ فِی الرَّمَادِ فَیَخْمِدُ
ترجمہ: کند ذہن کی غلط عادتیں ایک ذہین وفطین کی ذکاوت پر بہت جلدی اثراندازہوتی ہیں بالکل یونہی جیسے اگر انگارے کو راکھ میں رکھ دیا جائے تو وہ ٹھنڈا ہوجاتاہے ۔
حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا:
کُلُّ مَوْلُوْدٍ یُوْلَدُ عَلیٰ فِطْرَۃِ الْاِسْلَامِ اِلَّا اَنَّ اَبَوَیْہِ یُھَوِّدَانِہِ اَوْ یُنَصِّرَانِہِ أَوْیُمَجِّسَانِہِ
(صحیح البخاری،کتاب الجنائز،باب ماقیل فی اولاد المشرکین،الحدیث۱۳۸۵،ج۱،ص۴۶۶بتغیرقلیل)
ہر بچہ فطرت اسلام ہی پر پیداہوتاہے مگر اس کے والدین اپنی صحبت سے اسے یہودی، نصرانی یا مجوسی بنادیتے ہیں۔
کسی نے فارسی زبان میں یہ حکمت آمیز اشعار کہے ہیں :
یار بد بد تر بود ازماربد حق ذات پاک اللہ الصمد
ترجمہ: برادوست خطرناک سانپ سے بھی بدترہے ، حق تو اللہ جل جلالہ ہی کی ذات ہے جو کہ بے نیاز ہے ۔
یاربدآرد تراسوی جحیم یارنیکو گیر تایابی نعیم
ترجمہ: برادوست تجھے جہنم کی طر ف لے آتاہے نیک دوست کو اختیارکرتاکہ تو جنت کو حاصل کرلے۔