| راہِ علم |
کے دل کو نہ صرف غیر ضروری چیزوں میں مشغول کردیں گی بلکہ اوقات کو ضائع کرنے کے ساتھ ساتھ استاد کی اذیت کا سبب بھی بنیں گی، لہذا ایک طالب علم کیلئے ضروری ہے کہ وہ اپنے نفس کی چاہتوں پر عمل پیرا ہونے کے بجائے ان پر صبر کرے ۔ایک شاعر کہتاہے کہ :
اِنَّ الْھَوَی لَھُوَ الْھَوَانُ بِعَیْنِہِ وَصَرِیْعُ کُلِّ ھَوًی صَرِیْعُ ھَوَانِ
ترجمہ: خواہش نفس وہ تو بذات خود حقارت آمیز چیز ہے اورہر وہ کہ جس پر خواہشات غالب آگئیں تو ان پر ذلت وحقارت بھی غالب ہوجائیں گے ۔
اسی طرح ایک طالب علم کو راہ علم دین میں آنے والی آزمائشوں اورآفات پر بھی صبر کرنا چاہیے کسی نے کہا ہے کہ :
خَزَائِنُ الْمِنَنِ عَلَی قَنَاطِرِ الْمِحَنِ
بخشش اوراحسانوں کے خزانے آزمائشوں کے پل سے گزر کر ہی حاصل کیے جاسکتے ہیں ۔ ایک شاعر نے کہا کہ :
اَلَا لَاتَنَالُ الْعِلْمَ اِلَّا بِسِتَّۃٍ سَأُنْبِیْکَ عَنْ مَجْمُوْعِھَا بِبَیَانِ
ترجمہ: جان لو تم علم حاصل نہیں کرسکتے مگرچھ چیزوں کے ساتھ، میں تمہیں ان تمام کے بارے میں آگاہ کرتاہوں ۔
ذَکَاءٌ وَحِرْصٌوَاصْطِبَارٌوَبُلْغَۃٌ وَ اِرْشَادُ اُسْتَاذٍ وُطُوْلُ زَمَانِ