Brailvi Books

راہِ علم
29 - 109
ہر طالب علم کیلئے ضروری ہے کہ وہ ہر کام میں مشورہ ضرور کیا کرے کیونکہ اللہ جل جلالہ نے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام امور میں مشورہ کرنے کا حکم فرمایا حالانکہ کوئی شخص حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ ذہین وفطین نہیں ہوسکتا لیکن اسکے باوجود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مشورہ کرنے کا حکم دیاگیا اورحضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم تمام کاموں میں حتی کہ گھریلوضروریات تک میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے مشورہ کیا کرتے تھے ۔
     حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا :''کوئی آدمی مشورہ کرنے سے ہلاک نہیں ہوا ''۔
    کہا جاتاہے کہ انسان تین اقسام کے ہیں مرد کا مل ، نصف مرد اورنامرد۔ پس مرد کامل اورمکمل انسان وہ ہے جو صاحب الرائے ہے اورمشورہ بھی کرتاہے ، نصف مرد وہ ہے جو صاحب الرائے تو ہے لیکن مشورہ نہیں کرتا یا مشورہ کرتا ہے مگر رائے والا نہیں اورنامرد وہ ہے جو نہ تو صاحب الرائے ہے اورنہ ہی مشورہ کرتاہے ۔
    ایک مرتبہ امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ نے حضرت سفیان ثوری رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ اپنے معاملات میں ان لوگوں سے مشورہ طلب کرو جو اللہ کا خوف رکھتے ہیں ۔
    اے عزیز طالب علم !علم کا طلب کرنا تو تمام امور سے افضل اوراعلیٰ اور سخت مشکل کام ہے ، لہذا اس کے متعلق مشورہ کرنا بھی تو نہایت ضروری ہوگا ۔ تو اس داناحکیم نے اس طالب علم کو جس نے ان سے مشورہ طلب کیا تھا مشورہ دیتے ہوئے فرمایا:''جب تم بخارا جاؤ تو ائمہ کے پاس آنے جانے میں جلدی نہ کرنا بلکہ خوب سوچ بچار کے ساتھ کم از کم دو مہینے تک صورت حال دیکھ کر کسی کو اپنا استاد بنانا کیونکہ اگر تم نے بغیر سوچے سمجھے کسی استاد سے سبق لینا شروع کردیا تو ہوسکتاہے کہ کچھ دن بعد تمہیں ان کا طریقہ تعلیم پسند نہ
Flag Counter