| راہِ علم |
ہر طالب علم کیلئے ضروری ہے کہ وہ ہر کام میں مشورہ ضرور کیا کرے کیونکہ اللہ جل جلالہ نے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام امور میں مشورہ کرنے کا حکم فرمایا حالانکہ کوئی شخص حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ ذہین وفطین نہیں ہوسکتا لیکن اسکے باوجود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مشورہ کرنے کا حکم دیاگیا اورحضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم تمام کاموں میں حتی کہ گھریلوضروریات تک میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے مشورہ کیا کرتے تھے ۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا :''کوئی آدمی مشورہ کرنے سے ہلاک نہیں ہوا ''۔
کہا جاتاہے کہ انسان تین اقسام کے ہیں مرد کا مل ، نصف مرد اورنامرد۔ پس مرد کامل اورمکمل انسان وہ ہے جو صاحب الرائے ہے اورمشورہ بھی کرتاہے ، نصف مرد وہ ہے جو صاحب الرائے تو ہے لیکن مشورہ نہیں کرتا یا مشورہ کرتا ہے مگر رائے والا نہیں اورنامرد وہ ہے جو نہ تو صاحب الرائے ہے اورنہ ہی مشورہ کرتاہے ۔
ایک مرتبہ امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ نے حضرت سفیان ثوری رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ اپنے معاملات میں ان لوگوں سے مشورہ طلب کرو جو اللہ کا خوف رکھتے ہیں ۔
اے عزیز طالب علم !علم کا طلب کرنا تو تمام امور سے افضل اوراعلیٰ اور سخت مشکل کام ہے ، لہذا اس کے متعلق مشورہ کرنا بھی تو نہایت ضروری ہوگا ۔ تو اس داناحکیم نے اس طالب علم کو جس نے ان سے مشورہ طلب کیا تھا مشورہ دیتے ہوئے فرمایا:''جب تم بخارا جاؤ تو ائمہ کے پاس آنے جانے میں جلدی نہ کرنا بلکہ خوب سوچ بچار کے ساتھ کم از کم دو مہینے تک صورت حال دیکھ کر کسی کو اپنا استاد بنانا کیونکہ اگر تم نے بغیر سوچے سمجھے کسی استاد سے سبق لینا شروع کردیا تو ہوسکتاہے کہ کچھ دن بعد تمہیں ان کا طریقہ تعلیم پسند نہ