امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا کہ میں نے سمرقند کے ایک حکیم کو فرماتے سنا انہوں نے فرمایا:
ایک طالب علم جو کہ طلب علم کیلئے بخارا جانے کا ارادہ رکھتاتھا اس نے اس سلسلے میں مجھ سے مشورہ طلب کیا۔
اے عزیزطالب علم !جس طرح اس طالب علم نے مشورہ طلب کیااسی طرح
وَاِیَّاکُمْ وَالتَّنَطُّعَ وَالتَّبَدُّعَ وَالتَّعَمُّقَ وَعَلَیْکُمْ بِالْعَتِیْق
(کنزالعمال،کتاب العلم،الباب الاول، الاکمال،الحدیث ۲۸۸۶۱، ج۱۰، ص۷۲)
ترجمہ:سرکار مدینہ ،سرور قلب وسینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں :علم حاصل کرو قبل اس سے کہ وہ اٹھالیا جائے کیونکہ تم میں سے کوئی نہیں جانتا کہ اسے کب اس کی ضرورت پڑے جو اس کے پاس ہے( لہذا)تم پرعلم حاصل کرنا لازم ہے اورخواہشات کی پیروی سے بچواوربدعت اختیار نہ کرواور کسی کی ٹوہ میں نہ پڑواورپرانی(دینی مسلّمہ) روایات کو مضبوطی سے تھام لو۔