Brailvi Books

راہِ علم
28 - 109
انتخاب ِاستاد
    طالب علم کو چاہیے کہ وہ ایسے شخص کو اپنا استاد بنائے جو سب سے زیادہ پرہیز گار اورعمر دراز ہو جیسا کہ امام اعظم رضی اللہ عنہ نے حضرت حماد بن سلیمان رضی اللہ عنہ کو خوب غوروفکر کے بعد اپنا استاد منتخب کیا تھا۔ آپ کا اپنے استاد کے بارے میں فرمان ہے کہ :
    ثَبَتُّ عِنْدَ حَمَّادِ بْنِ سُلَیْمَانَ فَنَمَیْتُ
میں اپنے استاد حماد بن سلیمان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے پاس مستقل مزاجی سے پڑھتا رہا اسی وجہ سے میرا علمی مقام نشوونما پاتارہا ۔
    امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا کہ میں نے سمرقند کے ایک حکیم کو فرماتے سنا انہوں نے فرمایا:
  ایک طالب علم جو کہ طلب علم کیلئے بخارا جانے کا ارادہ رکھتاتھا اس نے اس سلسلے میں مجھ سے مشورہ طلب کیا۔
    اے عزیزطالب علم !جس طرح اس طالب علم نے مشورہ طلب کیااسی طرح
 وَاِیَّاکُمْ وَالتَّنَطُّعَ وَالتَّبَدُّعَ وَالتَّعَمُّقَ وَعَلَیْکُمْ بِالْعَتِیْق
 (کنزالعمال،کتاب العلم،الباب الاول، الاکمال،الحدیث ۲۸۸۶۱، ج۱۰، ص۷۲)
ترجمہ:سرکار مدینہ ،سرور قلب وسینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں :علم حاصل کرو قبل اس سے کہ وہ اٹھالیا جائے کیونکہ تم میں سے کوئی نہیں جانتا کہ اسے کب اس کی ضرورت پڑے جو اس کے پاس ہے( لہذا)تم پرعلم حاصل کرنا لازم ہے اورخواہشات کی پیروی سے بچواوربدعت اختیار نہ کرواور کسی کی ٹوہ میں نہ پڑواورپرانی(دینی مسلّمہ) روایات کو مضبوطی سے تھام لو۔
Flag Counter