Brailvi Books

راہِ علم
27 - 109
علم ، اساتذہ اور شرکاء کا انتخاب اورثابت قدمی اختیارکرنے کا بیان
علم کا انتخاب
    طالب علم کو چاہیے کہ وہ تمام علوم میں سے اس علم کو حاصل کرے جو احسن العلوم ہو اورفی الحال اس علم کی دینی معاملات میں شدید ضرورت ہو، پھر وہ اسے سیکھے جس کی اسے بعدمیں ضرورت پڑے ،لہذا علم توحید اورمعرفت خداوندی جل جلالہ کے سیکھنے کو مقد م رکھے ، اوراللہ تعالیٰ کو دلیل کے ساتھ پہچانے کیونکہ مقلد کا ایمان اگرچہ ہمارے نزدیک معتبر ہے لیکن اس کے ليے بھی ضروری ہے کہ وہ دلائل کے ساتھ اللہ عزوجل کو پہچانے،ورنہ وہ خطاکار ٹھہرے گا اورپرانے کو اختیار کرے اورنئی روایات سے بچے کہ علماء فرماتے ہیں :
عَلَیْکُمْ بِالْعَتِیْقِ وَاِیَّاکُمْ وَالْمُحْدَثَاتِ
پرانی روایات کو مضبوطی سے تھام لو اورنئی نئی روایات سے پرہیز کرو۔
    طالب علم کو چاہیے کہ وہ محض اختلافی مسائل ہی کے سیکھنے پر توجہ نہ دے جو کہ اکابر علماء کے دنیا سے اٹھ جانے کے بعد ہوئے کہ یہ چیز اسے فقہ سے بہت دور کردے گی اوراسکی ساری عمر ضائع کرنے کے ساتھ ساتھ دلوں میں وحشت اورعداوت کو پیدا کرے گی جوکہ قیامت کی نشانیوں میں سے ہے ۔ اوراس کے سبب علم وفقہ اٹھ جائے گا جیسا کہ حدیث شریف میں وارد ہے ۔ ۱؎
۱؎ یُشِیْرُ اِلیٰ مَارَوَاہُ الدَّیْلَمِیْ عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ اَنَّ النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ تَعَلَّمُوا الْعِلْمَ قَبْلَ اَنْ یُرْفَعَ ، فَاِنَّ اَحَدَکُمْ لَایَدْرِیْ مَتَی یَفْتَقِرُ اِلَی مَاعِنْدَہُ وَعَلَیْکُمْ بِالْعِلْمِ،
Flag Counter