Brailvi Books

راہِ علم
24 - 109
ترجمہ: دنیا آخرت کے مقابلہ میں قلیل ترین شے ہے ،اوراس کا چاہنے والا نہایت ہی ذلیل ہے ۔
  تُصِمُّ بِسِحْرِھَا قَوْمًا وَتُعْمِی 

 فَھُمْ  مُتَحَیِّرُوْنَ  بِلَا  دَلِیْلِ
ترجمہ: یہ دنیا اپنے سحر سے کسی قوم کو بہرا بنادیتی ہے تو کسی کو اندھا ،وہ لوگ جو دنیا کے سحر میں مبتلا ہیں وہ حیران وششد رہیں ۔
    لہذا ایک طالب علم کیلئے ضروری ہے کہ وہ بے فائدہ اشیاء کی طمع کر کے اپنے آپ کو ذلیل نہ کرے اوروہ کام جو کہ علم اوراہل علم کے ليے بدنامی کا باعث بن سکتے ہوں ان سے بچتا رہے نیز ایک طالب علم کو متواضع ہونا چاہیے اور تواضع، تکبر وذلتِ نفس کے درمیانی راستے کا نام ہے اور ان باتوں کی تفصیل ''کتاب الاخلاق ''میں دیکھی جاسکتی ہیں ۔
    تواضع کے بارے میں شیخ امام رکن الاسلام عرف ادیب مختار رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے مجھے اپنے یہ اشعار سنائے :
 اِنَّ التَّوَاضُعَ مِنْ خِصَالِ الْمُتَّقِیْ 		 وَبِہِ التَّقِیُّ اِلَی الْمَعَالِیْ یَرْتَقِیْ
ترجمہ : تواضع ،متقی وپرہیز گار لوگوں کی ایک صفت ہے ، اسی کے ذریعے نیک لوگ سربلند ہوتے ہیں ۔
وَمِنَ الْعَجَائِبِ عُجْبُ مَنْ ھُوَجَاھِلٌ  		فِیْ حَا لِہِ أَ ھُوَ السَّعِیْدُ أَمِ الشَّقِیْ
Flag Counter