ترجمہ: لیکن گھاٹاتو اس طالب علم کیلئے ہے جو علم کو لوگوں سے فائدہ حاصل کرنے کیلئے طلب کرے ۔
یہ بات تو مسلّم ہے کہ علم کو دنیاوی عزت ومنصب کیلئے حاصل نہیں کرنا چاہیے مگر جب دنیاوی منصب کو اس ليے طلب کیا کہ
اَمْرٌ بِا لْمَعْرُوْفِ وَنَہْیٌ عَنِ الْمُنْکَرِ
(نیکی کا حکم کرنا اور برائی سے روکنا)آسانی سے کرسکے اورحق کو نافذ کرسکے، نیز دین کی سربلندی کرسکے اوربلند منصب کی طلب میں خواہش نفس شامل نہ ہوتو پھر اس قدر منصب وجاہ حاصل کرنا جائز ہے کہ جس کے ساتھ
اَمْرٌ بِا لْمَعْرُوْفِ وَنَہْیٌ عَنِ الْمُنْکَرِ
طالب علم کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی نیت کے بارے میں سوچ بچار کرتا رہے اور اس میں غفلت نہ کرے کہ ایک طالب علم ، علم کو بہت محنت ومشقت کرنے کے بعد حاصل کرپاتاہے لہذا اس علم کوفانی ، قلیل اورحقیر دنیا کے حصول کے لیے ہرگز خرچ نہیں کرنا چاہیے
ھِیَ الدُّنْیَا اَقَلُّ مِنَ الْقَلِیْلِ وَعَاشِقُھَا اَذَلُّ مِنَ الذَّلِیْلِ