Brailvi Books

راہِ علم
23 - 109
    شیخ امام قوام الدین حماد بن ابراہیم بن اسماعیل الصفّارالانصاری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ سے منقول یہ شعر ہمیں سنایا :
مَنْ طَلَبَ الْعِلْمَ لِلْمَعَادِ 

فَازَ  بِفَضْلٍ  مِنَ  الرَّشَادِ
ترجمہ : جس نے آخرت کے لیے علم کو حاصل کیا ،اس نے فضل یعنی ہدایت کو پالیا۔
فَیَا  لِخُسْرَانِ  طَا لِبِیْہِ 

لِنَیْلِ فَضْلٍ مِنَ الْعِبَادِ
ترجمہ: لیکن گھاٹاتو اس طالب علم کیلئے ہے جو علم کو لوگوں سے فائدہ حاصل کرنے کیلئے طلب کرے ۔
    یہ بات تو مسلّم ہے کہ علم کو دنیاوی عزت ومنصب کیلئے حاصل نہیں کرنا چاہیے مگر جب دنیاوی منصب کو اس ليے طلب کیا کہ
اَمْرٌ بِا لْمَعْرُوْفِ وَنَہْیٌ عَنِ الْمُنْکَرِ
 (نیکی کا حکم کرنا اور برائی سے روکنا)آسانی سے کرسکے اورحق کو نافذ کرسکے، نیز دین کی سربلندی کرسکے اوربلند منصب کی طلب میں خواہش نفس شامل نہ ہوتو پھر اس قدر منصب وجاہ حاصل کرنا جائز ہے کہ جس کے ساتھ
اَمْرٌ بِا لْمَعْرُوْفِ وَنَہْیٌ عَنِ الْمُنْکَرِ
کیا جاسکے۔
    طالب علم کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی نیت کے بارے میں سوچ بچار کرتا رہے اور اس میں غفلت نہ کرے کہ ایک طالب علم ، علم کو بہت محنت ومشقت کرنے کے بعد حاصل کرپاتاہے لہذا اس علم کوفانی ، قلیل اورحقیر دنیا کے حصول کے لیے ہرگز خرچ نہیں کرنا چاہیے
         ھِیَ الدُّنْیَا اَقَلُّ مِنَ الْقَلِیْلِ 		وَعَاشِقُھَا اَذَلُّ مِنَ الذَّلِیْلِ
Flag Counter