ترجمہ:یہ دونوں اس شخص کیلئے دونوں جہاں میں بہت بڑا فتنہ ہیں جو ان دونوں کی پیروی کرے ۔
نیز طالب علم کو چاہیے کہ وہ فہم وذکاوت اورصحت وتندرستی پر اللہ جل جلالہ کا شکر ادا کرتارہے اور لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرانے اوردنیا کا مال حاصل کرنے کی نیت ہرگز ہرگز نہ کرے اورنہ ہی ارباب اقتدار کی نظر میں عزت ووقار حاصل کرنے کی نیت کرے۔
امام محمدرحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ارشاد فرماتے ہیں کہ :
لَوْ کَانَ النَّاسُ کُلُّھُمْ عَبِیْدِیْ لَاَعْتَقْتُھُمْ وَتَبَرَّأْتُ عَنْ وَلاَئِھِمْ
ترجمہ:اگردنیا کے سارے لوگ بھی میرے غلام ہوجائیں تو میں ا ن سب کو آزاد کردوں اوران کی ولایت سے بری ہوجاؤں گا۔
اسکی وجہ یہ ہے کہ جس شخص کو علم وعمل کی لذت حاصل ہوجائے تو پھر وہ دنیا کی لذتوں اورلوگوں کے اعزازواکرام پر بالکل نظر نہیں رکھتا۔