Brailvi Books

راہِ علم
21 - 109
دورانِ تعلیم کیفیتِ نیت کا بیان
    تحصیلِ علم کے دور میں طالب ِعلم کا حصول ِعلم سے کوئی نہ کوئی مقصد ضرورہونا چاہیے اس لیے کہ نیت تمام احوال کی اصل ہے کیونکہ تاجدار مدینہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیث صحیح میں ارشاد فرمایا :
    اِنَّمَا الْاَعْمَالُ بِالنِّیَّاتِ.
(صحیح البخاری،کتاب بدء الوحی،باب کیف کان بدء الوحی...الخ،الحدیث۱،ج۱،ص۵)
ترجمہ: اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے ۔
    ایک اورحدیث مبارک میں سرکار مدینہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
     کَمْ مِنْ عَمَلٍ یَتَصَوَّرُ بِصُوْرَۃِ اَعْمَالِ الدُّنْیَا وَیَصِیْرُ بِحُسْنِ النِّیَّۃِ مِنْ اَعْمَالِ الْاٰخِرَۃِ وَکَمْ مِنْ عَمَلٍ یَتَصَوَّرُبِصُوْرَۃِ اَعْمَالِ الْاٰخِرَۃِ ثُمَّ یَصِیْرُ مِنْ اَعْمَالِ الدُّنْیَا بِسُوْءِ النِّیَّۃِ.
ترجمہ: بہت سے اعمال ظاہری طور پر دنیا وی نظر آتے ہیں لیکن حسن نیت کی وجہ سے وہ اعمالِ آخرت بن جاتے ہیں اور بہت سے اعمال ظاہر ی طور پر آخرت کیلئے تصور کیے جاتے ہیں مگر نیت بد کی وجہ سے وہ اعمالِ دنیا میں شمار ہوتے ہیں۔
    لہذا طالب علم کیلئے ضروری ہے کہ وہ تحصیل علم سے رضاء الٰہی عزوجل، آخرت کی کامیابی ،اپنے آپ اورتمام جاہلوں سے جہل کو دور کرنے ، دین کو زندہ رکھنے اوراسلام کو باقی رکھنے کی نیت کرے کیونکہ اسلام کی بقا صرف علم ہی کے ساتھ ممکن ہے، اورزہد وتقوی کو بھی جہالت کی حالت میں اختیار نہیں کیا جاسکتا۔
Flag Counter