| راہِ علم |
وہ اشیاء جن سے کبھی کبھار واسطہ پڑتاہے ان کے متعلق آگاہی حاصل کرنا فرض کفایہ ہے ۔اگر ایک شہر کے بعض افراد نے ان سے متعلق علم حاصل کرلیا تو باقی افراد سے فرض ساقط ہوجاتا ہے اوراگر پورے شہر میں سے کسی نے بھی ان سے متعلق علم حاصل نہیں کیا تو تمام شہر والے گنہگار ہوں گے ، پس حاکم وقت پر واجب ہے کہ وہ شہر کے لوگوں کو ان اشیاء سے متعلق علم حاصل کرنے کا حکم دے اورانہیں اس پر مجبورکرے۔
علم کی ضرورت اوراہمیت کو بیان کرنے کیلئے ایک مثال دی جاتی ہے کہ وہ علم جس سے ہر وقت واسطہ پڑتاہے اسکی مثال غذا کی طرح ہے لہذا جس طرح ایک انسان کیلئے غذا لازمی جزء ہے اسی طرح اس علم کا حاصل کرنا بھی ضروری ہے۔ اوروہ علم جس سے کبھی کبھار واسطہ پڑتاہے اسکی مثال دوا کی سی ہے کہ صرف حالت مرض ہی میں دوا کی ضرورت پڑتی ہے لہذا چند ایسے افراد کا ہونا ضروری ہے جو علم طب سے آگاہی رکھتے ہوں پس اسی طرح وہ علم جس سے کبھی کبھار واسطہ پڑتا ہے اس علم کو جاننے والے چند افراد کا ہونا ضروری ہے ۔ اورعلم نجوم کی مثال مرض کی طرح ہے لہذا اس کا سیکھنا(بغیر کسی غرض صحیح کے) حرام ہے کیونکہ اس کا سیکھنا کوئی نفع و نقصان نہیں دے سکتا کہ اللہ عزوجل کی قضاء وقدر سے فرار کسی صور ت ممکن نہیں ۔
ہر مسلمان کیلئے ضروری ہے کہ وہ ہر وقت اللہ عزوجل کے حضور ذکر ودعا ء ،
رضوی دامت برکاتہم العالیہ کے اصلا حی بیانا ت کی کیسٹیں اور کتب ورسائل سے استفادہ کرے ،جن میں اخلاقیات پر سیر حاصل گفتگو ہے ،نیز امام محمد غزالی علیہ رحمۃ اللہ الوالی کی کتب مثلا''احیاء العلوم اورکیمیائے سعادت''وغیرہما میں بھی ان امور پر تفصیلی مواد موجود ہے ۔فلیراجع الیھا من یشاء.