ہاں اگر کوئی شخص اتنی مقدار میں علم نجوم کو سیکھنا چاہے کہ جس کے ذریعے قبلہ اوراوقاتِ صلوۃکی معرفت سے آگاہی ہوسکے تو جائز ہے ۔
علم طب کا سیکھنا بھی جائز ہے کیونکہ دوسرے اسباب ضروریہ کی طرح یہ بھی ایک سبب ہے او ردیگر ضروری اسباب کی طرح اس کا سیکھنا بھی جائز ہے ۔ خود سرکار صلی اللہ علیہ وسلم سے علاج ومعالجہ کرنا ثابت ہے ۔ امام شافعی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے حکایت بیان کی گئی ہے کہ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا :
سیکھنے کے قابل تو دوہی علم ہیں ۔
پہلا علم فقہ ، احوال دینیہ کی پہچان کیلئے اوردوسرا علم طب ، بدنِ انسانی کی پہچان کیلئے ، ان کے علاوہ جو دوسرے علوم ہیں وہ تو مجلس کا توشہ ہیں ۔