Brailvi Books

راہِ علم
18 - 109
  تلاوت قرآن اور صدقہ دینے میں لگا رہے جو کہ دافع بلا ہے اوراللہ تعالیٰ سے گناہوں کی معافی طلب کرتا رہے اوردنیا وآخرت کیلئے عافیت کا طلبگار رہے تاکہ اللہ تعالیٰ اسے بلاؤں اورآفات سے محفوظ رکھے کیونکہ یہ بات تو اظہر من الشمس ہے کہ :
مَنْ رُزِقَ الدُّعَاءَ ، لَمْ یُحْرَمِ الْاِجَابَۃَ
ترجمہ: جسے دعا کی توفیق ہوئی تو وہ قبولیت سے ہرگز محروم نہ کیا جائے گا۔
    لیکن اگر تقدیر میں کسی مصیبت کا پہنچنا لکھا ہے تو ضرورپہنچے گی، البتہ دعا کی برکت سے اللہ تعالیٰ اس میں تخفیف فرمادے گا اور اسے صبر کی توفیق عطا کریگا۔
    ہاں اگر کوئی شخص اتنی مقدار میں علم نجوم کو سیکھنا چاہے کہ جس کے ذریعے قبلہ اوراوقاتِ صلوۃکی معرفت سے آگاہی ہوسکے تو جائز ہے ۔
    علم طب کا سیکھنا بھی جائز ہے کیونکہ دوسرے اسباب ضروریہ کی طرح یہ بھی ایک سبب ہے او ردیگر ضروری اسباب کی طرح اس کا سیکھنا بھی جائز ہے ۔ خود سرکار صلی اللہ علیہ وسلم سے علاج ومعالجہ کرنا ثابت ہے ۔ امام شافعی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے حکایت بیان کی گئی ہے کہ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا :
    سیکھنے کے قابل تو دوہی علم ہیں ۔
    پہلا علم فقہ ، احوال دینیہ کی پہچان کیلئے اوردوسرا علم طب ، بدنِ انسانی کی پہچان کیلئے ، ان کے علاوہ جو دوسرے علوم ہیں وہ تو مجلس کا توشہ ہیں ۔
Flag Counter