| راہِ علم |
سخاوت ، قوت اورشفقت وغیرہا انسان وحیوان دونوں میں پائی جاتی ہیں جبکہ علم ہی وہ صفت ہے کہ جس کے سبب سے اللہ عزوجل نے حضرت آدم علیہ السلام کو تمام فرشتوں پر فضیلت بخشی اورملائکہ کو حضرت آدم علیہ السلام کے سامنے سجدۂ تعظیمی کرنے کا حکم دیا۔
علم کو اس وجہ سے شرافت وعظمت حاصل ہے کہ علم تقوی تک پہنچنے کا وسیلہ ہے اور تقوی کی وجہ سے بندہ اللہ عزوجل کے حضوربزرگی اورابدی سعادت کا مستحق ہوجاتاہے۔
اس حقیقت کو کسی نے امام محمد بن حسن رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو مخاطب کر کے ان اشعار میں بیان کیا۔
تَعَلَّمْ فَاِنَّ الْعِلْمَ زَیْنٌ لِاَھْلِہِ وَفَضْلٌ وَعُنْوَانٌ لِکُلِّ الْمَحَامِدِ
ترجمہ: علم حاصل کرو کیونکہ علم اہل علم کے لئے زینت ہے،اورعلم اس کیلئے فضیلت اوراس بات پر دلیل ہے کہ اہل علم خصال محمودہ کا مالک ہے ۔
وَکُنْ مُسْتَفِیْداً کُلَّ یَوْمٍ زِیَادَۃً مِنَ الْعِلْمِ وَاسْبَحْ فِیْ بُحُوْرِالْفَوَائِدِ
ترجمہ: ہر روزعلم سے زیادہ سے زیادہ فائدہ حاصل کرو اورفضل وکمال کے سمندروں میں تیرتے رہو۔
تَفَقَّہْ فَاِنَّ الْفِقْہَ اَفْضَلُ قَائِدِ اِلَی الْبِرِّوَالتَّقْوَی وَاَعْدَلُ قَاصِدِ
ترجمہ: اورفقہ حاصل کرو کیونکہ فقہ ہی نیکی اور تقوی کی راہ دکھانے والا سب سے بہترین رہنما ہے ، اورفقہ ہی سب سے بڑا عادل ہے ۔