| راہِ علم |
کیونکہ ضابطہ یہ ہے کہ وہ معلومات جو ادائیگی فرض کا سبب بنے ان کو حاصل کرنافرض ہے اور وہ معلومات جو ادائیگی واجب کا ذریعہ بنے ان کو حاصل کرنا واجب ہے ۔ اسی طرح روزے سے متعلق معلومات حاصل کرنے کا معاملہ ہے نیز اگر صاحب مال ہے تو زکوٰۃ کا بھی یہی ضابطہ ہے اوراگر کوئی تاجر ہے تو مسائل خریدوفروخت جاننے کے متعلق بھی یہی حکم ہے کہ اتنی معلومات کا جاننا فرض ہے جن سے فرض ادا ہوسکے اوراتنی معلومات کا حاصل کرنا واجب ہے کہ جن سے واجب ادا ہوسکے ۔
ایک مرتبہ امام محمد رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی بارگاہ میں عرض کیا گیا کہ آپ ''زہد ''کے عنوان پر کوئی کتاب تصنیف کیوں نہیں فرماتے ؟آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے ارشاد فرمایا : میں توخریدوفروخت کے مسائل سے متعلق ایک کتاب تصنیف کرچکاہوں۔
مطلب یہ ہے کہ زاہد وہی ہے جو کہ تجارت کرتے وقت اپنے آپ کو مکروہات وشبہات سے بچائے اوراسی طرح تمام معاملات اورصنعت وحرفت میں مکروہات وشبہات سے بچنا ہی تو زہد ہے ۔ جب ایک شخص کسی کام میں مشغول ہوجاتاہے تو اس پر اتنے علم کا حاصل کرنا فرض ہوجاتاہے کہ جس کے ذریعے وہ اس فعل میں حرام کے ارتکاب سے بچ سکے ۔ نیز ظاہری معاملات کی طرح ہی باطنی احوال یعنی توکل ، توبہ ، خوف خدا عزوجل ، رضاء الٰہی عزوجل وغیرہ سے متعلق معلومات حاصل کرنے کا حکم ہے ۔ کیونکہ بندے کو مذکورہ قلبی امور سے بھی ہر وقت واسطہ پڑتارہتاہے ۔ لہذا اس پر احوال قلب سے متعلق معلومات کا علم حاصل کرنا بھی فرض ہے ۔
علم کی عظمت اوراس کا شرف کسی پر بھی مخفی نہیں کیونکہ علم ایک ایسی صفت ہے جو انسان کے ساتھ خاص ہے اور علم کے علاوہ دوسری خصلتیں مثلا جرأ ت ، شجاعت،