Brailvi Books

راہِ علم
13 - 109
علم وفقہ کی تعریف اوراسکے فضائل کا بیان
تاجدار مدینہ ،سُرورِ قلب وسینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ سلم نے فرمایا :
    طَلَبُ الْعِلْمِ فَرِیْضَۃٌ عَلیٰ کُلِّ مُسْلِمٍ وَّمُسْلِمَۃٍ.
(سنن ابن ماجہ،کتاب المقدمۃ،باب فضل العلماء،الحدیث۲۲۴،ج۱،ص۱۴۶.

المقاصد الحسنۃ،تحت الحدیث۶۶۰،ص۲۸۲)
ترجمہ: علم حاصل کرنا ہر مسلمان مردوعورت پر فرض ہے ۔
اے عزیز طالبعلم !تجھے معلوم ہونا چاہیے کہ :
    ہر مسلمان پر تمام علوم کا حاصل کرنا فرض نہیں ہے بلکہ ایک مسلمان پر ان امور کے متعلق دینی معلومات حاصل کرنا فرض ہے جن سے اس کا واسطہ پڑتاہے ، اسی وجہ سے تو کہا جاتاہے :
    اَفْضَلُ الْعِلْمِ عِلْمُ الْحَالِ وَاَفْضَلُ الْعَمَلِ حِفْظُ الْحَالِ.
ترجمہ: افضل ترین علم موجودہ درپیش امور سے آگاہی حاصل کرنا ہے اورافضل ترین عمل اپنے احوال کی حفاظت کرنا ہے ۔
    پس ایک مسلمان پر ان علوم کا جاننا بہت ضروری ہے جن کی ضرورت اس کو اپنی زندگی میں پڑتی ہے خواہ وہ کسی بھی شعبے سے تعلق رکھتا ہو۔
    ایک مسلمان کے ليے پہلا فرض تو نماز ہی ہے ۔ لہذا ہر مسلمان پر نماز کے متعلق اتنی معلومات کا جاننا فرض ہے کہ جن سے اس کا فرض ادا ہوسکے اوراتنی معلومات کا حاصل کرنا واجب ہے جن کی آگاہی سے وہ واجبات نماز کو اد اکرسکے
Flag Counter