| راہِ علم |
اوربرتنوں کو صاف ستھرا رکھنا موجب غناء ہے ۔ نیز رزق کی وسعت کاقوی ترین ذریعہ یہ ہے کہ انسان نماز کو خشوع وخضوع ، تعدیل ارکان کا لحاظ کرتے ہوئے اورتمام واجبات اورسنن وآداب کی پوری طرح رعایت کرتے ہوئے ادا کرے ۔
حصول رزق کے لیے نماز چاشت پڑھنا بے حد مفید اورمجرب ہے ۔ اس طرح سورۃالواقعہ کو خصوصاًرات میں پڑھنا نیز سورۃ الملک ، سورۃ المزمل ، سورۃ اللیل اور سورۂ الم نشرح کی تلاوت کرتے رہنا بھی فراخی رزق کا سبب ہے ۔
اسی طرح مسجد میں اذان سے پہلے پہنچنا ، ہمیشہ باوضورہنا ، سنت فجر اوروترکو گھر پر ادا کرنا اوروتر کے بعد کوئی دنیاوی کلام نہ کرنا ، عورتوں کے پاس ضرورت سے زیادہ نہ بیٹھنا ، غیر مفیداورلغو کلام سے اجتناب کرنا ،رزق میں اضافہ کا موجب ہوتاہے۔جیسا کہ کسی نے کہا :
مَنِ اشْتَغَلَ بِمَا لاَ یَعْنِیْہٖ یَفُوْتُہ، مَا یَعْنِیْہٖ
ترجمہ:جو غیر ضروری کاموں میں مشغول ہوجائے اس سے ضروری کام تک چھوٹ جاتے ہیں۔ کسی کا قول ہے :
جب تم کسی شخص کو بہت زیادہ بولتے دیکھو تو پھر اس کے مجنون ہونے کا بھی یقین کرلو۔
حضرت علی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم ارشادفرماتے ہیں :
اِذَا تَمَّ الْعَقْلُ نَقَصَ الْکَلاَمُ
ترجمہ:جب عقل کامل ہوجاتی ہے تو انسان کاکلام بھی مختصر ہوجاتاہے ۔
خود میں نے اس موضوع پر کہاہے :