Brailvi Books

راہِ علم
104 - 109
وغیرہ سی لینا ، چہرے کو لباس ہی سے خشک کرلینا ، گھر میں مکڑی کے جالوں کو لگا رہنے دینا ، نماز میں سستی کرنا ، نماز فجر کے بعد مسجد سے نکلنے میں جلدی کرنا ،صبح سویرے بازار جانا، دیر گئے بازار سے آنا ، فقیروں کی مانگی ہوئی روٹیاں خریدنا، اپنی اولاد کے لیے بددعا کرنا ، کھانے کے برتن کو صاف نہ کرنا، چراغ کو پھونک مارکر بجھا دینا، یہ تمام چیزیں فقر و محتاجی پیدا کرتی ہیں ، نیز یہ ساری باتیں مختلف احادیث سے ماخوذ ہیں ۔
    اسی طرح چند امور اوربھی ہیں جوفقر و محتاجی کا سبب بنتے ہیں ،جیسے ٹوٹے ہوئے قلم کو پھردوبارہ باندھ کر لکھنا ، ٹوٹے ہوئے کنگھے کا استعمال کرنا ، والدین کے لیے دعائے خیر کوچھوڑ دینا ،عمامہ بیٹھ کر باندھنا ، شلوار کو کھڑے ہوکر پہننا ، بخل کرنا ، کنجوسی کرنا ، سستی وکاہلی کرنا، نیک اعمال میں ٹال مٹول کرنا۔
رزق میں اضافہ کرنے والے اسباب :
تاجدارمدینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ و اٰلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ :
     اَسْتَنْزِلُوا الرِّزْقَ بِالصَّدَقَۃِ
 (الکامل فی ضعفاء الرجال،حبیب بن ابی حبیب،ج۳،ص۳۲۶)
ترجمہ:صدقات کی کثرت سے رزق طلب کرو۔
    علی الصبح بیدار ہونا نعمتوں میں اضافہ کا باعث بنتاہے ،خصوصاًاس سے رزق میں اضافہ ہوتاہے، اسی طرح خوشخطی رزق کی کنجیوں میں سے ایک کنجی ہے اورخندہ پیشانی وخوش کلامی بھی رزق کو بڑھاتی ہے ۔
    حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہما کے بارے میں آتا ہے کہ آپ نے فرمایا : گھر
Flag Counter