| راہِ علم |
اِذَا تَمَّ عَقْلُ الْمَرْءِ قَلَّ کَلاَمُہ،
وَأَیْقِنْ بِحُمْقِ الْمَرْءِ اِنْ کَانَ مُکْثِرًاترجمہ:جب عقل کامل ہوجاتی ہے تو بندے کی گفتگو بھی کم ہوجاتی ہے اورجب کسی باتونی کو دیکھو تو پھر اس کی حماقت کا یقین کرلو۔
ایک اور شاعر کہتاہے :
اَلنُّطْقُ زَیْنٌ وَالسُّکُوْتُ سَلاَمَۃٌ
فَاِذَا نَطَقْتَ فَلاَ تَکُنْ مِکْثَارًاترجمہ:بولنا زینت ہے اورخاموشی سلامتی ہے لہذا جب بولنے کا ارادہ کرو تو پھر ضرورت سے زیادہ کلام مت کرو۔
مَااِنْ نَدِمْتُ عَلیٰ سُکُوْتِی مَرَّۃً
وَلَقَدْ نَدِمْتُ عَلَی الْکَلاَمِ مِرَارًاترجمہ:میں نے کبھی خاموشی پر ندامت نہیں اٹھائی لیکن بولنے پر مجھے بارہا ندامت اٹھانی پڑی
وہ وظائف جور زق کو بڑھاتے ہیں ان میں سے چند ایک یہ بھی ہیں
(۱) روز انہ صبح صادق کے وقت نماز فجر سے قبل یہ کلمات سو بار پڑھنا :
سُبْحَانَ اللہِ الْعَظِیْمِ ، سُبْحَانَ اللہِ وَبِحَمْدِہٖ ، اَسْتَغْفِرُاللہَ وَاَتُوْبُ اِلَیْہِ.
(۲) ہر روز صبح وشام سو سو مرتبہ یہ کلمات پڑھنا :
لاَاِلٰہَ اِلاَّ اللہُ الْمَلِکُ الْحَقُّ الْمُبِیْنُ
(۳) روزانہ نماز فجر کے بعد اورنماز مغرب کے بعدان کلمات کو۳۳،۳۳ مرتبہ پڑھنا :
اَلْحَمْدُلِلّٰہِ ، سُبْحَانَ اللہِ ، لاَاِلٰہَ اِلاَّ اللہُ
(۴) نماز فجر کے بعد چالیس بار استغفار کرنا ۔