Brailvi Books

راہِ علم
103 - 109
    ایک شاعر کہتاہے :
         سُرُوْرُ النَّاسِ فِی لُبْسِ اللِّبَاسِ 

         وَجَمْعُ الْعِلْمِ فِی تَرْکِ النُّعَاسِ
ترجمہ:لوگوں کا سرور تونئے نئے لباس پہننے میں ہے،مگر علم نیند کو ترک کر کے ہی حاصل کیا جاسکتاہے۔
         أَلَیْسَ مِنَ الْخُسْرَانِ اَنَّ لَیَا لِیاً 

         تَمُرُّ بِلاَ نَفْعٍ وَتُحْسَبُ مِنْ عُمْرِی
ترجمہ:کیا بدبختی کی بات نہیں کہ راتیں بغیر نفع گزرجائیں، حالانکہ ان کا شمار عمر میں ہورہا ہے
    ایک اور شاعر کہتاہے :
         قُمِ اللَّیْلَ یَا ھٰذَا لَعَلَّکَ تَرْشُدُ 

         اِلیٰ کَمْ تَنَامُ اللَّیْلَ وَالْعُمْرُ یَنْفُدُ
ترجمہ:اے طالب علم !راتوں کو اٹھ شاید کہ تجھے ہدایت ملے ، تم رات کو کتنا سوتے ہو حالانکہ تمہار ی عمر ختم ہوتی جارہی ہے ۔
رزق میں کمی کرنے والے اسباب میں یہ افعال بھی شامل ہیں :
    ننگے سونا، بے حیائی سے پیشاب کرنا ، پہلو کے بل ٹیک لگا کر کھانا، دسترخوان پر گرے ہوئے روٹی کے ٹکڑے وغیرہ اٹھانے میں سستی کرنا، پیاز اورلہسن کے چھلکے جلانا، گھر میں رومال سے جھاڑو دینا،رات کو جھاڑو دینا، کوڑا گھر ہی میں چھوڑدینا ، مشائخ کے آگے چلنا، ماں باپ کو انکے نام سے پکارنا ، کسی بھی گڑی پڑی چیز سے دانتوں کا خلال کرنا، ہاتھوں کو گارے یا مٹی سے دھونا ، چوکھٹ پر بیٹھنا ، دروازے کے ایک حصے سے ٹیک لگا کر کھڑے ہونا ، بیت الخلا میں وضو کرنا ، بدن ہی پر کپڑے
Flag Counter