لاَیَرُدُّ الْقَدْرَ اِلاَّ الدُّعَاءُ وَلاَ یَزِیْدُ فِی الْعُمْرِ اِلاَّ الْبِرُّ فَاِنَّ الرَّجُلَ لَیُحْرَمُ
الرِّزْقَ بِالذَّنْبِ یُصِیْبُہ،.
(المستد رک،کتاب الدعاء والتکبیر،باب:لایرد القد ر ...الخ،الحدیث۱۸۵۷،ج۲،ص۱۶۲)
ترجمہ:دعاسے تقدیر پلٹ جاتی ہے اورنیکیوں سے عمر میں اضافہ ہوتاہے، بے شک بندہ گناہ کی وجہ سے اس رزق سے بھی محروم ہوجاتاہے جو اسے پہنچنا ہوتاہے۔
اس حدیث پاک سے ثابت ہواکہ گناہوں کا ارتکاب کرنا رزق کی محرومی کا سبب بنتاہے ،خصوصاً جھوٹ جیسا گناہ، کہ جھوٹ بولنا فقر و محتاجی کو پیدا کرتاہے،اس کے بارے میں تو حدیث شریف بھی وارد ہے ۔ اسی طرح صبح کے وقت سونا بھی رزق سے محرومی کا سبب بنتاہے اورکثرت نوم کی عادت بھی فقر و محتاجی کو پیدا کرتی ہے ،نیز کثرت نوم سے جہالت بھی پیداہوتی ہے ۔