Brailvi Books

مدنی مذاکرہ قسط42: درزیوں کے بارے میں سُوال جواب
78 - 81
رِشتہ جوڑ لیجیے کہ اچھوں کی نقل اچھی اور بُروں کی نقل بُری ہوتی  ہے ۔ چنانچہ حضرتِ سَیِّدُنا علّامہ علی قاری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِالْبَارِی فرماتے ہیں : جو شخص کفار ، فُسّاق اور فُجّار  کے ساتھ لباس وغیرہ میں مُشابہت کرے وہ گناہ میں انہی کی مِثل ہے اور جوشخص نیکو کاروں کی مُشابہت اِختیار کرے وہ بھلائی میں انہی کی مِثل ہے ۔ منقول ہے کہ   ” جب اللہ عَزَّوَجَلَّ نے فرعون اور اس کی قوم کو غرق کیا تو ان کاوہ بہروپیا بچ گیا جو حضرتِ سَیِّدُناموسیٰ کَلِیْمُ اللہ عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے ساتھ  لباس اور بول چال میں نقل کیا کرتا تھا ۔  فرعون اور اس کی قوم اس کی ان حَرکات و سکنات سے ہنسا کرتے تھے ۔ حضرتِ سَیِّدُنا موسیٰ عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے بارگاہِ الٰہی میں عرض کی : اے میرے رب عَزَّوَجَلَّ!یہ تو دوسرے فرعونیوں کے مقابلے میں مجھے زیادہ اَذِیَّت دیتا تھا!اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اِرشاد فرمایا  : ہم نے اسے اس لیے غرق نہیں کیا کہ اس نے تمہارے جیسا لباس پہنا ہوا ہے اورہم محبوب کی سی  صورت اِختیار کرنے والے کو بھی عذاب نہیں دیتے ۔ “غور کیجیے کہ جس نے باطل طریقے سے اَہلِ حق کے ساتھ مُشابہت اِختیار کی تو اُسے نجات مل گئی اور وہ  غرق ہونے سے بچ گیا تو اس کا کیا عالَم ہوگا جو تعظیم وتکریم کی نیت سے اَنبیائے کِرام عَلَیْہِمُ السَّلَام اور اَولیائے کِرامرَحِمَہُمُ اللّٰہ ُ السَّلَام کے ساتھ مُشابہت اِختیار کرے گا ۔  (1) 



________________________________
1 -    مرقاةُ  المفاتیح ، ۸ / ۱۵۵ ، تحت الحدیث : ۴۳۴۷ ملتقطًا دار الفکر بیروت