وہیں یہ زینت کا سبب بھی ہے ۔ چُنانچہ خُدائے رَحمٰنعَزَّ وَجَلَّ کا فرمانِ عالیشان ہے :
یٰبَنِیْۤ اٰدَمَ قَدْ اَنْزَلْنَا عَلَیْكُمْ لِبَاسًا یُّوَارِیْ سَوْاٰتِكُمْ وَ رِیْشًاؕ-وَ لِبَاسُ التَّقْوٰىۙ-ذٰلِكَ خَیْرٌؕ- (پ۸ ، الاعراف : ۲۶)
ترجمۂ کنز الایمان : اے آدم کی اولاد بے شک ہم نے تمہاری طرف ایک لباس وہ اُتارا کہ تمہاری شرم کی چیزیں چھپائے اور ایک وہ کہ تمہاری آرائش ہو اور پرہیز گاری کا لباس وہ سب سے بھلا ۔
لباس اِنسان کی ضَرورت ہے اسے ہر ایک پہنتا ہے نیز ہر قوم کا لباس جُدا جُدا ہوتا ہے تو مسلمان کا لباس بھی سب سے ممتاز ہونا چاہیے مگر افسوس! صَد کروڑ افسوس! آج مسلمان اَغیار کے فیشن کے مُطابق چلنے میں فخر محسوس کرتا ہے ، انگریزوں کی طرح ننگے سر ، انہیں کی طرح داڑھی مونچھ صاف ، انہیں کی طرح پتلون کے اَندر قمیص ، گلے میں کالر بلکہ مَعَاذَ اللہ ٹائی (پھندا) ڈالنے میں اپنی عزّت تَصَوُّر کرتا ہے گویا کہ انگریزی لباس میں ملبوس رہنا ہی اس کے نزدیک عین سعادت ہے بلکہ اب تو نوبت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ سُنَّت کے مُطابق لباس اور اِسلامی وَضع قطع بعض نام نہاد مسلمانوں کو ایک آنکھ نہیں بھاتی ۔
اچھوں کی نقل کی بدولت نجات مل گئی
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! غیروں کی نقالی سے مُنہ موڑتے ہوئے اپنے پیارے آقا ، مکی مَدَنی مصطفے ٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّم کی پیاری پیاری سُنَّتوں سے اپنا