بہرحال سُنَّت کے مُطابق سفید لباس پہنا جائے کہ ” آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّم کا مبارَک لباس اکثر سفید کپڑے کا ہوتا تھا ۔ “ () حدیثِ پاک میں سفید لباس پہننے کی تَرغیب بھی اِرشاد فرمائی گئی ہے ۔ چنانچہ حضرتِ سَیِّدُنا سمرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے رِوایت ہے کہ حضورِ اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّم نے اِرشاد فرمایا : سفید لباس پہنو کیونکہ یہ زیادہ صاف اور پاکیزہ ہے اور اپنے مُردوں کو بھی اسی میں کفناؤ ۔ (1) سُنَّت (طریقوں میں سے ایک طریقہ) یہ (بھی) ہے کہ دامن کی لمبائی آدھی پنڈلی تک ہو اور آستین کی لمبائی زیادہ سے زیادہ انگلیوں کے پوروں تک اور چوڑائی ایک بالِشت ہو ۔ (2)
جنتیوں کا لباس کیسا ہو گا؟
سوال : کس رنگ کے کپڑے پہننے چاہئیں؟ نیز جنتیوں کا لباس کیسا ہو گا؟
جواب : صَدرُ الشَّریعہ ، بَدرُ الطَّریقہ حضرتِ علّامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں : کسم یا زَعفران کا رنگا ہوا کپڑا پہننا مَرد کو منع ہے گہرا رنگ ہو کہ سُرخ ہوجائے یا ہلکا ہو کہ زَرد رہے دونوں کا ایک حکم ہے ۔ عورتوں کو یہ دونوں قسم کے رَنگ جائز ہیں ، اِن دونوں رَنگوں کے سِوا باقی ہر قسم کے
________________________________
1 - کَشْفُ الْاِلْتِباس فِی اسْتِحْبابِ اللِّباس ، ص۳۶ دار احیا ء العلوم باب المدینه کراچی
2 - ترمذی ، کتاب الادب ، باب ما جاء فی لبس البیاض ، ۴ / ۳۷۰ ، حدیث : ۲۸۱۹
3 - رَدُّالْمُحتار ، کتاب الحظر والاباحة ، فصل فی اللبس ، ۹ / ۵۷۹