Brailvi Books

مدنی مذاکرہ قسط42: درزیوں کے بارے میں سُوال جواب
76 - 81
وَ تَعَاوَنُوْا عَلَى الْبِرِّ وَ التَّقْوٰى ۪-وَ لَا تَعَاوَنُوْا عَلَى الْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ۪-   (پ۶ ، المائدة : ۲)
ترجمۂ کنز الایمان : اور نیکی اور پرہیزگاری پر ایک دوسرے کی مدد کرو اور گناہ اور زیادتی پر باہم مدد نہ دو  ۔ 
اعلیٰ حضرت ، امامِ اہلسنَّت مولانا شاہ امام احمد رضاخانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن فرماتے ہیں کہ عُلما فرماتے ہیں : اگر کوئی شخص فاسِقانہ وَضع کے کپڑے یا جُوتے سِلوائے (جیسے ہمارے زمانے میں نیچری وَردی) تو دَرزی اور موچی کو ان کا سِینا مکروہ ہے کہ یہ معصیت پر اِعانت ہے اس سے ثابت ہوا کہ فاسِقانہ تَراش کے کپڑے یا جوتے پہننا گناہ ہے ۔ (1) لہٰذا دَرزیوں کو اس حکمِ شَرعی پرعمل کرتے ہوئے نیکی اورپرہیزگاری کے کاموں میں ایک دوسرے کی مددکرنی چاہئے اور غیر شَرعی لباس سی کر گناہ کے کاموں میں مدد دینے سے اِجتناب کرناچاہئے  ۔ 
چشم کرم ہو ایسی کہ مِٹ جائے ہر خطا
                     کوئی گناہ مجھ سے نہ شیطاں کرا سکے 	 (وسائلِ  بخشش)
لباس کیسا ہونا چاہیے ؟
سوال :   لباس کیسا ہونا چاہیے ؟
جواب : لباس اللہ عَزَّوَجَلَّ کی ایک عظیم نعمت ہے جس  کے ذَریعے سردی اور گرمی کے اَثرات سے اپنے آپ کو محفوظ کیا جاتا ہے ۔ لباس جہاں  سَتر پوشی  کا فائدہ دیتا ہے 



________________________________
1 -    فتاویٰ رضویہ ، ۲۲ / ۱۳۷