قرآنِ پاک خَتْم ہو گیا تب بھی آخر رَمَضان تک تَراویح پڑھتے رہیں کہ سُنَّتِ مُؤَکَّدہ ہے ۔ (1)
تَراویح پڑھنے والوں کی خوش نصیبی
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! تَراویح اس قدر پیاری عبادت ہے کہ اسے جہاں مومنین ادا کرتے ہیں وہاں ملائکۂ عرش بھی اس میں حاضِر ہوتے ہیں ۔ چنانچہ منقول ہے کہ اللہ پاک کے عرش کے گِرد ” حَظِیْرَۃُ الْقُدْس“ نامی ایک جگہ ہے جوکہ نُور کی ہے ، اس میں اتنے فرشتے ہیں کہ جن کی تعداد اللہپاک ہی جانتا ہے ، وہ اللہ پاک کی عبادت کرتے ہیں اور ا یک لمحہ بھی غافل نہیں ہوتے ، جب رَمَضان کی راتیں آتی ہیں تو وہ اپنے ربّعَزَّ وَجَلَّ سے زمین پراُترنے کی اِجازت طَلب کرتے ہیں اور پیارے آقا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی اُمَّت کے ساتھ نمازِ تَراویح میں حاضِر ہوتے ہیں ، اگر کوئی ان کو چھوئے یا وہ اس کو مَس کریں تووہ ایسا سعادت مند ہو جائے گا کہ اس کے بعدکبھی بَدبخت نہ ہو گا ۔ اَمِیْرُ الْمُؤمِنِیْن حضرتِ سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظمرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے جب یہ حدیث سُنی تو اِرشاد فرمایا : ہم اس فضل و اَجر کے زیادہ حق دار ہیں ۔ چنانچہ آپرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے ماہِ رَمَضان میں لوگوں کو نمازِ تَراویح کے لیے جمع فرمایا ۔ (2) تَراویح میں
________________________________
1 - فتاویٰ ھندیه ، کتاب الصلوة ، الباب التاسع فی النوافل ، ۱ / ۱۱۸
2 - الروض الفائق ، المجلس الخامس فی فضل شھر رمضان و صیامه ، ص ۴۱