Brailvi Books

مدنی مذاکرہ قسط42: درزیوں کے بارے میں سُوال جواب
72 - 81
کام کے بوجھ کی وجہ سے تَراویح تَرک کرنا کیسا؟
سوال : بعض اوقات دَرزی کام کی زیادتی کا عُذر کرکے تَراویح چھوڑ دیتے ہیں ان کا ایسا کرنا  کیساہے ؟  
جواب : تَراویح  سُنَّتِ مُؤکَّدہ ہے ، اس کا تَرک جائز نہیں ۔ چنانچہ دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی اِدارے مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ 1250 صَفحات پر مشتمل کتاب ، ’’بہارِ شریعت‘‘جلد اوّل صَفْحَہ688پر ہے  :  ”  تَراویح مَرد و عورت سب کے ليے بِالاجماع سُنَّتِ مُؤکَّدہ ہے اس کا تَرک جائز نہیں ۔ اس پر خُلَفائے راشدینرِضْوَانُ اللّٰہِتَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن نے مُداوَمت فرمائی اور نبی صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّم کا اِرشاد ہے کہ میری سُنَّت اور سُنَّتِ خُلفائے راشدین کو اپنے اوپر لازِم سمجھو اور خود حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّم نے بھی تَراویح پڑھی اور اسے بہت پسند فرمایا ۔ “
تَراویح كی اہميت كا يُوں بھی اَندازہ  لگا یا جا سکتا ہے  کہ قضا نمازوں کی اَدائیگی کے لئے عام نَوافل تو  تَرک کئے جا سکتے ہیں  لیکن تَراویح کو نہیں چھوڑا جا ئے گا چہ جائیکہ کسی دُنیوی کام کے سبب اسے تَرک کر دیا جائے ۔ چنانچہ بہارِ شریعت میں ہے  : قضا نمازیں نَوافِل سے اَہَمّ ہیں یعنی جس وقت نَفل پڑھتا ہے اُنہیں چھوڑ کر اُن کے بدلے قَضائیں پڑھے کہ بَرِیُّ الذِّمَّہ ہو جائے اَلبتہ تَراویح اور بارہ رکعتیں سُنَّتِ مُؤَکَّدہ کی نہ چھوڑے ۔ (1) اگر ستائیسویں کو (یا اس سے قبل) 



________________________________
1 -    بہارِ شريعت ، ۱ / ۷۰٦ ، حصہ : ۴