Brailvi Books

مدنی مذاکرہ قسط42: درزیوں کے بارے میں سُوال جواب
68 - 81
 (Ladies Tailoring) کا کام کرنے والے تو شاید ہی اپنے آپ کو  بَد نگاہی اور دِیگر گناہوں سے بچا سکیں کیونکہ انہیں لیڈیز کا ناپ لینے کے لیے دیکھنے کے ساتھ ساتھ چُھونا بھی پڑتا ہے تو یوں ان کے لیے زیادہ آزمائش  ہے ۔ بہرحال زنانہ سِلائی (Ladies Tailoring) کا کام کرنے والے ہوں یا کوئی اور ہر ایک کے لیے اپنی نگاہ کی حفاظت کرتے ہوئے بَدنگاہی سے بچنا ضَروری ہے  لہٰذا ہر ایک کو حکمِ قرآنی پر عمل کرتے ہوئے اپنی نگاہیں نیچی رکھنی چاہئیں جیسا کہ اِرشادِ ربّ العباد  ہے  : 
قُلْ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ یَغُضُّوْا مِنْ اَبْصَارِهِمْ (پ۱۸ ، النور : ۳۰)
ترجمۂ  کنز الایمان : مسلمان مَردوں کو حکم دو اپنی نگاہیں کچھ نیچی رکھیں ۔ 
حدیثِ قدسی میں ہے اللہ عَزَّوَجَلَّ اِرشاد فرماتا ہے  : نظر ابلیس کے تیروں میں سے ایک زَہر میں بجھاہواتِیر ہے پس جو شخص میرے خوف سے اسے تَرک کر دے تو میں اسے ایسا اِیمان عطا کروں گاجس کی مٹھاس وہ اپنے دِل میں پائے گا ۔  (1) حضرتِ علّامہ اَبُو الْفَرَج عبدُ الرَّحمٰن بِن جَوزی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی نقل کرتے ہیں :  عورت کے مَحاسِن ( یعنی حُسن و جمال ) کو دیکھنا ابلیس کے زَہر میں بجھے ہوئے تیروں میں سے ایک تیر ہے ، جس نے نامَحرم سے آنکھ کی حفاظت نہ کی اُس کی آنکھ میں بروزِ قِیامت آگ کی سَلائی پھیری جائیگی ۔  () 



________________________________
1 -    معجم کبیر ، ۱۰ / ۱۷۳ ، حدیث : ۱۰۳۶۲ دار احیاء التراث  العربی  بیروت 
2 -    بحرُ الدُّموع ، الفصل السابع  والعشرون موبقات الزنی  وعواقبه ، ص۱۷۱ مکتبه  دار الفجر دمشق