Brailvi Books

مدنی مذاکرہ قسط42: درزیوں کے بارے میں سُوال جواب
64 - 81
کام کے دَوران قرآنِ مجید پڑھنا یا سُننا کیسا؟ 
سوال :  کام کے دَوران قرآنِ کریم  پڑھ یاسُن سکتے ہیں یانہیں؟ 
جواب : قرآنِ مجید کی تِلاوت کرنا اور سُننا بہت بڑی سَعادت ہے  ۔ تاہم قرآنِ مجید کی تِلاوت کرنے اور سُننے کے کچھ آداب بھی ہیں جنہیں  بجا لانا ضَروری ہے ۔ چنانچہ پارہ 9 سورۃُ الاَعراف کی آیت نمبر 204 میں اِرشادِ ربُّ العباد ہے  : 
وَ اِذَا قُرِئَ الْقُرْاٰنُ فَاسْتَمِعُوْا لَهٗ وَ اَنْصِتُوْا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ(۲۰۴)
ترجمۂ کنزالایمان : اور جب قرآن پڑھا جائے تو اسے کان لگا کر سُنو اور خاموش رہو کہ تم پر رحم ہو  ۔ 
رہی بات کام کے دَوران تِلاوت کرنے اور سُننے کی تو اس کی دو صورتیں ہیں :  اگر اکیلے کام کر رہے ہیں تو کام کے دَوران جب تک ذوق وشوق میسر ہے آپ تِلاوتِ قرآن کربھی سکتے ہیں اور سُن بھی سکتے ہیں اس میں کوئی حَرج نہیں ۔  ہاں!اگر دِل اِدھراُدھربٹنے لگے تو مَوقوف کر دیں کہ اس صورت میں مکروہ ہے  ۔ چنانچہ صَدرُالشَّریعہ ، بَدرُالطَّریقہ حضرتِ علّامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمیعَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں : لیٹ کر قرآن پڑھنے میں حَرج نہیں جبکہ پاؤں سمٹے ہوں اور مونھ (منہ) کھلا ہو ۔  یوہیں چلنے اور کام کرنے کی حالت میں بھی تلاوت جائز ہے جبکہ دِل نہ بٹے وَرنہ مکروہ ہے ۔ (1) 
 اور اگر  ایسی جگہ ہے جہاں اورلوگ بھی کام کرتے ہیں تو اس صورت میں



________________________________
1 -    بہارِ شریعت ، ۱ / ۵۵۱ ، حصہ : ۳