Brailvi Books

مدنی مذاکرہ قسط42: درزیوں کے بارے میں سُوال جواب
63 - 81
	کیجیے  اور رَحمتِ خُداوندی پرجھومئے  :  چنانچہ سرکارِ نامدار ، مدینے کے تاجدار صلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ خوشبودار ہے  : اے عورَتو!جب تم بِلال کو اذان و اِقامت کہتے سُنو تو جس طرح وہ کہتا ہے تم بھی کہوکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ  تمہارے لئے ہرکلمہ کے بدلے ایک لاکھ نیکیاں لکھے گا اور ایک ہزار دَرَجات بُلند فرمائے گا اورایک ہزارگناہ مٹائے گا ۔  خواتین نے یہ سُن کرعرض کی : یہ تو عورَتوں کے لیے  ہے ، مَردوں کے لیے کیاہے ؟ فرمایا :  مَردوں کے لیے دُگنا ۔  (1) 
اذان کا جواب دینے والا جنّتی ہوگیا
حضرتِسیِّدُنا ابوہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ ایک صاحب جن کا بظاہِر کوئی بَہُت بڑا نیک عمل نہ تھا ، وہ فوت ہوگئے تو رسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّم نے صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کی موجودَگی میں فرمایا :  کیا تمہیں معلوم ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اسے جنَّت میں داخل کر دیا ہے ۔ اس پر لوگ مُتَعَجِّب ہوئے کیونکہ بظاہر ان کا کوئی بڑا عمل نہ تھا چنانچہ ایک صحابی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ    اُن کے گھر گئے اوران کی بیوہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے پوچھا کہ اُن کا کوئی خاص عمل ہمیں بتائیے تو اُنہوں نے جواب دیا : اور تو کوئی خاص بڑا عمل مجھے معلوم نہیں ، صِرف اتنا جانتی ہوں کہ دِن ہو یا     رات ، جب بھی وہ اذان سنتے توجواب ضَرور دیتے  تھے ۔ (2) 



________________________________
1 -    کنزالعُمّال ، كتاب الصلاة ، آداب المؤذن ، الجزء : ۷ ، ۴ / ۲۸۷ ، حدیث : ۲۱۰۰۵ 
2 -    ابن عساکر ، عطا بن قرة ابو قرة السلولی ، ۴۰  / ۴۱۲-۴۱۳ دارالفکربیروت