Brailvi Books

مدنی مذاکرہ قسط42: درزیوں کے بارے میں سُوال جواب
62 - 81
 اور اِشاروں میں گفتگو کرنا وغیرہ سب کچھ موقوف کر دینا ہی مناسب ہے ۔  ” راستے پر چل رہا تھاکہ ا ذان کی آواز آئی تو بہتر یہ ہے کہ اُتنی دیرکھڑا ہو جائے چُپ چاپ سُنے اور جواب دے  ۔ “ (1) عُلمائے کِرام رَحِمَہُمُ اللّٰہ ُ السَّلَام  نے یہاں تک فرمایا ہے کہ اذان کے دَوران کلام کرنے سے  اِیمان کے سَلب ہوجانے کا اَندیشہ ہے ۔ (2) نیز اذان شعائرِ اِسلام سے ہے ۔ (3) اور شعائرِ اِسلام کا اَدب دِلی تقویٰ کی علامت ہے ۔ چنانچہ خُدائے رحمٰن عَزَّوَجَلَّ کا فرمانِ عالیشان ہے  :  
وَ مَنْ یُّعَظِّمْ شَعَآىٕرَ اللّٰهِ فَاِنَّهَا مِنْ تَقْوَى الْقُلُوْبِ(۳۲) (پ۱۷ ، الحج : ۳۲)
 ترجمۂ کنز الایمان : اور جو اللہ کے نشانوں  کی تعظیم کرے تو یہ دِلوں کی پرہیز گاری سے ہے  ۔ 
لہٰذا جب اذان ہورہی ہوتو اتنی دیر کے لئے کام بالکل روک دیں اور اذان کا جواب دیں چاہے کام کا کتنا ہی بوجھ (Load) ہو ۔ اس میں آپ کا نقصان نہیں بلکہ فائدہ ہی فائدہ ہے اور وہ بھی آخرت کا ۔ دُنیوی مال و دولت  پرنظر نہ رکھیے بلکہاللہ عَزَّوَجَلَّ کی رَحمت سے اذان کے جواب پر ملنے والے اَجرو ثواب پرنظر رکھیے ۔ 
اذان کا جواب دینے کی فضیلت
سوال : اذان کا جواب دینے کی فضیلت بھی بیان فرما دیجیے ۔ 
جواب : اذان کا جواب دینے کی فضیلت پر مشتمل ایک رِوایت اور ایک حِکایت مُلاحظہ  



________________________________
1 -    فتاویٰ ھندیه ، کتاب الصلاة ، الباب الثانی فی الاذان ، ۱ / ۵۷ 
2 -    جامع الرموز ، كتاب الصلاة ، فصل فی الاذان ، ۱ / ۱۲۴  باب المدینه کراچی 
3 -    تبیین الحقائق معه حاشیة  الشیخ الشلبی ، ۱ / ۲۴۰ دار الکتب العلمية بیروت