اور اِشاروں میں گفتگو کرنا وغیرہ سب کچھ موقوف کر دینا ہی مناسب ہے ۔ ” راستے پر چل رہا تھاکہ ا ذان کی آواز آئی تو بہتر یہ ہے کہ اُتنی دیرکھڑا ہو جائے چُپ چاپ سُنے اور جواب دے ۔ “ (1) عُلمائے کِرام رَحِمَہُمُ اللّٰہ ُ السَّلَام نے یہاں تک فرمایا ہے کہ اذان کے دَوران کلام کرنے سے اِیمان کے سَلب ہوجانے کا اَندیشہ ہے ۔ (2) نیز اذان شعائرِ اِسلام سے ہے ۔ (3) اور شعائرِ اِسلام کا اَدب دِلی تقویٰ کی علامت ہے ۔ چنانچہ خُدائے رحمٰن عَزَّوَجَلَّ کا فرمانِ عالیشان ہے :
وَ مَنْ یُّعَظِّمْ شَعَآىٕرَ اللّٰهِ فَاِنَّهَا مِنْ تَقْوَى الْقُلُوْبِ(۳۲) (پ۱۷ ، الحج : ۳۲)
ترجمۂ کنز الایمان : اور جو اللہ کے نشانوں کی تعظیم کرے تو یہ دِلوں کی پرہیز گاری سے ہے ۔
لہٰذا جب اذان ہورہی ہوتو اتنی دیر کے لئے کام بالکل روک دیں اور اذان کا جواب دیں چاہے کام کا کتنا ہی بوجھ (Load) ہو ۔ اس میں آپ کا نقصان نہیں بلکہ فائدہ ہی فائدہ ہے اور وہ بھی آخرت کا ۔ دُنیوی مال و دولت پرنظر نہ رکھیے بلکہاللہ عَزَّوَجَلَّ کی رَحمت سے اذان کے جواب پر ملنے والے اَجرو ثواب پرنظر رکھیے ۔
اذان کا جواب دینے کی فضیلت
سوال : اذان کا جواب دینے کی فضیلت بھی بیان فرما دیجیے ۔
جواب : اذان کا جواب دینے کی فضیلت پر مشتمل ایک رِوایت اور ایک حِکایت مُلاحظہ
________________________________
1 - فتاویٰ ھندیه ، کتاب الصلاة ، الباب الثانی فی الاذان ، ۱ / ۵۷
2 - جامع الرموز ، كتاب الصلاة ، فصل فی الاذان ، ۱ / ۱۲۴ باب المدینه کراچی
3 - تبیین الحقائق معه حاشیة الشیخ الشلبی ، ۱ / ۲۴۰ دار الکتب العلمية بیروت