Brailvi Books

مدنی مذاکرہ قسط42: درزیوں کے بارے میں سُوال جواب
60 - 81
اُجرت  پوری لینے کے باوجود ناقص مال لگانا
سوال : بعض دَرزی حضرات اُجرت پوری لینے کے باوجودبُکرم وغیرہ ناقص لگا دیتے ہیں ان کے بارے میں کیا حکم ہے ؟ 
جواب : کپڑا لیتے وقت جیسے طے ہواتھا اس کے مُطابق  سی کر دینا ضَروری ہے ۔ اگر ان اوصاف کے مُطابق سی کر نہ دیا تواس صورت میں دَرزی  مُقَرَّر ہ اُجرت کامستحق نہیں ہوگا مثلاً کسی نے دَرزی کو کپڑا دیتے وقت عمدہ اورجَیِّد قسم کے کارلر لگانے کو کہااس نے ناقص قسم کے کارلر لگا دیئے تو اب دیکھا جائے گا کہ جو اس نے کام کیا وہ بیان کردہ اوصاف کے مُطابق ہے یانہیں؟ اگر بیان کردہ اوصاف کے مُطابق ہويا اس کے قریب قریب ہو یعنی معمولی فرق ہو تو اس صورت ميں دَرزی اپنی طے شُدہ اُجرت کا مستحق ہو گا اور اگر بیان کردہ اوصاف کے قریب قریب بھی نہ ہوتو اس صورت میں کپڑے کے مالک کو اِختیار ہے کہ یا تو اپنے کپڑے کی قیمت لے یا پھر اپناکپڑا لے کراس کے سینے کی اُجرتِ مِثل دَرزی کو دے  ۔ چنانچہ فتاویٰ ہندیہ میں ہے  : اگرکسی شخص نے موزہ بنانے والے کو چمڑا دیا اور کہا کہ اپنے پاس سے اس میں عُمدہ نعل لگا دے اور اُجرت مقرر کر دی اب اگر اس نے غیرعمدہ نعل لگائے تو مالک کو اِختیارہے کہ چاہے تو اپنے چمڑے کی قیمت  لے لے یا موزے لے کر اس  کام کی اُجرتِ مِثل اور جو زیادتی ہوئی ہے وہ دے دے مگر اُجرتِ مِثل طے شُدہ اُجرت (یعنی مزدوری)