Brailvi Books

مدنی مذاکرہ قسط42: درزیوں کے بارے میں سُوال جواب
59 - 81
’’جوسمجھ میں آئے دے دینا‘‘کہنا کیسا؟
سوال : دَرزی کایہ کہنا کہ’’جو اُجرت سمجھ میں آئے  دے دینا‘‘کیسا ہے ؟  
جواب : دَرزی کایہ کہنا کہ’’جو اُجرت سمجھ میں آئے  دے دینا‘‘یہ سرا سر جھگڑے والا مُعاملہ ہے ۔ کپڑے سِلائی کرنے کے بعد جو گاہک کی سمجھ میں آ رہا ہے اگر دَرزی کی سمجھ میں نہ آیا  اور  تُو تکار سے بات بڑھتے بڑھتے جھگڑے کی نوبت آ گئی تو فیصلے کے لیے کس قاضی کے پاس جائیں گے ؟ جھگڑا نہ بھی ہو تو کم از کم  اتنا ضَرور ہوتا ہے کہ دُکاندار کو افسوس رہتاہے کہ مجھے مَطلوبہ  اُجرت نہیں ملی لیکن بے چارہ مُرَوَّت میں خاموش ہوجاتا ہے  اور گاہک کو افسوس ہوتا ہے کہ شاید میں نے زیادہ اُجرت دے دی ہے  ۔ بالآخر نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ دونوں ایک دوسرے سے بَدظن ہو جاتے ہیں ۔ انہی وُجُوہات کی بِنا پر شریعتِ مطہرہ  نے ہمیں کام شروع کرنے سے پہلے اُجرت یا مزدوری طے کرنے کا حکم دیا ہے ۔ اگر اُجرت پہلے سے طے نہ ہوتو  اُجرت کے مجہول (نا معلوم) ہونے کی وجہ سے عقد فاسِد ہو گا اور اس صورت میں اُجرتِ مِثل یعنی اس کام کرنے کی عموماً جتنی اُجرت دی جاتی ہے اتنی اُجرت دینی  پڑے گی جیسا کہ دُرِّمختار میں ہے  : اگر اِجارہ شے کی جہالت (معلوم نہ ہونے ) اور عَدمِ ذِکر (یعنی ذِکر نہ کرنے ) کی وجہ سے فاسِد ہو تو منافع حاصِل کرنے پر مِثلی اُجرت لازِم ہو گی خواہ جتنی بھی ہو ۔  (1) 



________________________________
1 -    درمختار ، کتاب الاجارة ، ۹ / ۸۱