جائے ، بعد ازاں اس سے چار پانچ ماہ تک کام کرالے اور بَر وقت حِساب کے اس کو تیس روپے کے کام کے بیس روپے اور اس پر سختی کرے اور اسے پریشان کرے ، جائز ہے یا ناجائز؟“توآپرَحمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے جواباً اِرشاد فرمایا : حرام ، حرام ، حرام ، کبیرہ ، کبیرہ ، کبیرہ ۔ رسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّم فرماتے ہیں کہ اللہ تبارک وتعالیٰ فرماتا ہے : قیامت کے دِن تین شخصوں کا میں مدعی ہوں گا اور جس کامیں مدعی ہوں میں ہی اسی پر غالِب آؤں گا ، ایک وہ جس نے میرا عہد دیا پھر عہد شکنی کی ۔ دوسرا وہ جس نے کسی آزاد کو غُلام بناکر بیچ ڈالا اور اس کی قیمت کھائی ۔ تیسرا وہ جس نے کسی شخص کو مزدوری میں لے کر اپنا کام تو اس سے پورا کرا لیا اور مزدوری اسے پوری نہ دی (1) ۔ (2)
لہذا اِجارے کے وقت جو اُجرت طے پائی اس کا ادا کرنا ضَروری ہے ۔ اگرکوئی طے شُدہ رقم سے کم دے تو جتنی رقم اس نے کم دی ہے اس پر لازِم ہے کہ اَجیرکو دے اور اس اَجیرکی جو دِل آزاری اور بقیہ رقم دینے میں تاخیر ہوئی اس پر اس سے مُعافی بھی مانگے ۔ حدیثِ پاک میں یہاں تک تاکید فرمائی گئی کہ ” اجیرکو اس کی اُجرت اس کاپسینا خشک ہونے سے پہلے دو ۔ “ (3)
________________________________
1 - مُسندِ امام احمد ، مسند ابی ھریرة ، ۳ / ۲۷۸ ، حدیث : ۸۷۰۰
2 - فتاویٰ رضویہ ، ۱۹ / ۴۵۴
3 - ابنِ ماجه ، کتاب الرھون ، باب اجر الاجراء ، ۳ / ۱۶۲ ، حدیث : ۲۴۴۳ دار المعرفة بیروت