کے urgent کام کرا لیتا ہے تب بھی حَرج نہیں (۴) اگر یہ صورتیں نہ ہوں تو پھر اَخلاقی طور پر ایسا order لینا غَلَط ہے ، جو پہلے آئیں ان کے سوٹ پہلے سی کر دیئے جائیں ۔ ہاں! جس جس تاریخ کا وعدہ ہے اس سے لیٹ نہ ہوتے ہو تو بیچ میں جلدی (Urgent) سی کر دینے میں بھی حَرج نہیں ۔ (1) لہٰذا دَرزی اَرجنٹ آرڈر لینے میں اِس بات کا خیال رکھے کہ جن لوگوں سے مُقَرَّرہ وقت پر سی کر دینے کا وعدہ کر رکھا ہے اور وقت پر سی کر دینے کی نیت بھی تھی تو اس میں اَرجنٹ آرڈر کی وجہ سے تاخیر نہ ہونے پائے ۔
طے ہونے کے باوجود زبردستی اُجرت کم دینا کیسا؟
سوال : سِلائی کی اُجرت طے ہونے کے باوجود سوٹ لیتے وقت زبردستی طے شُدہ رقم سے کم دینا کیسا ہے ؟
جواب : یہ سرا سر ظلم و زیادتی ہے اور ایسا کرنا حرام ، حرام اور سخت حرام ہے ۔ اِجارے کے وقت جو اُجرت طے ہوئی ، کام کے اِختتام پراس طے شُدہ اُجرت کا ادا کرنا ضَروری ہے کیونکہ یہ اَجیر کا حق ہے اور اس کے حق میں کمی کرنا اس کی حق تلفی ہے ، ایساکرنے والا قہرِ قہار و غضبِ جبار کامستحق ہے ۔ اعلیٰ حضرت ، امامِ اہلِسنَّت مولانا شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰن کی بارگاہِ عالی میں سُوال ہوا کہ ” اگر کوئی شخص کسی مزدور کو بَرائے مَزدوری سو کوس یا پچاس کوس کے فاصلہ پر لے
________________________________
1 - فتاویٰ اہلسنَّت غیر مطبوعہ