جائے گا ۔ اِس ضِمن میں ایک دِلچسپ حکایت سنیے :
منقول ہے کہ ایک بار حضرتِ سیِّدُنا امام شافعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِ الْکافی نے کسی درزی سے قمیص سِلوائی ۔ وہ آپ رَحمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے مقام و مرتبہ سے ناواقف تھا ۔ اس نے مذاق کرتے ہوئے دائیں آستین اتنی تنگ کر دی کہ اس میں آپ رَحمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا ہاتھ بمشکل داخِل ہوتا اور بائیں اتنی کشادہ کر دی کہ اس میں سر بھی داخِل ہوسکتا تھا ۔ جب قمیص آپ رَحمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کی خِدمت میں پیش کی گئی تو آپرَحمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا : ’’اللہ عَزَّوَجَلَّ تجھے جزائے خیر عطا فرمائے ! تنگ آستین وُضو میں اوپر چڑھانے کے لئے بہتر ہے اور کھلی آستین کتاب رکھنے کے لئے موزوں ہے ۔ ‘‘اِسی دَوران خلیفۂ وقت کا قاصِد دَس ہزار دِرہم لے کر آپ رَحمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی خِدمت میں حاضِر ہوا ۔ دَرزی کے پاس ہی اس کی آپ رَحمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ سے مُلاقات ہوگئی ۔ آپرَحمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے قاصِد کو فرمایا : ’’اس دَرزی کو کپڑوں کی سِلائی دے دو ۔ ‘‘جب دَرزی نے قاصِد سے آپ رَحمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے متعلق پوچھا تواس نے بتایا : ’’یہ حضرتِ سیِّدُنا امام شافعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِالْکافی ہیں ۔ ‘‘یہ سنتے ہی وہ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے پیچھے ہو لیا اور قدم بوسی کرکے معذرت کی پھر آپ رَحمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی خِدمت میں ہی رہنے لگا اور آپ رَحمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے حلقۂ اَحباب میں شامل ہو گیا ۔ (1)
________________________________
1 - الروض الفائق ، ص۲۰۸ داراحیاء التراث العربی بیروت