اور اگر اَجیرِ خاص (جیسے تنخواہ دار کاریگر) تھا اور اس نے جان بوجھ کر کپڑے خراب کر دئیے تو اس پر تاوان ہوگا ورنہ نہیں جیساکہ بہار ِ شریعت میں ہے : اَجیرِ خاص کے پاس جو چیز ہے وہ اَمانت ہے اگر تلف ہو جائے تو ضمان واجب نہیں اگرچہ اس کے فعل کی وجہ سے تلف ہوئی مثلاً اَجیرِ خاص نے کپڑا دھویا اور اس کے (لکڑی یا پتھر کی سل وغیرہ پر) پٹکنے یا نچوڑنے سے پھٹ گیا ، اس پر ضمان واجب نہیں اور اَجیرِ مُشترک سے ایسا ہو تو واجب ہے ۔ ( جس کا مفصل ذِکر گزر چکا ہے ۔ ) ہاں !اگر اَجیرِ خاص نے قصداً اس چیز کو فاسِد و خراب کر دیا تو اس پر تاوان واجب ہو گا ۔ (1)
مذاق کرنے والے دَرزی کیلئے بھی دُعائے خیر
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اگربالفرض کسی دَرزی نے آپ کے کپڑے خراب کربھی دیئے تو آپ بحث وتکرار یا لڑائی جھگڑے کے بجائے صبر کر کے خوب خوب اَجر و ثواب کماتے ہوئے شیطان کے اس وار کو ناکام بنا دیجئے کیونکہ اب لڑائی جھگڑا کرنے سے آپ کے کپڑے دُرُست نہیں ہو جائیں گے بلکہ آپ کا وقار مجروح ہو گا لہٰذا حُسنِ اَخلاق کا دامن تھامتے ہوئے ، اپنے اَسلافِ کِرام رَحِمَہُمُ اللّٰہ ُ السَّلَام کی پیروی کرتے ہوئے اس کے ساتھ نرمی سے پیش آئیے ۔ اس سے نہ صرف اس کو اپنے کئے پرنَدامت ہوگی بلکہ وہ آپ کا گرویدہ بھی ہو
________________________________
1 - بہارِ شریعت ، ۳ / ۱۶۰ ، حصہ : ۱۴