اَجیرِمُشترک کے ضَمان کے بارے میں صَدرُ الشَّریعہ ، بَدرُ الطَّریقہ حضرتِ علّامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : اَجیرِ مُشترک کے فعل سے اگر چیز ضائع ہوئی تو تاوان واجب ہے مثلاً دھوبی نے کپڑا پھاڑ دیا اگرچہ قصداً نہ پھاڑا ہو چاہے اُسی نے خود پھاڑا یا اُس نے دوسرے سے دھلوایا اُس نے پھاڑا ، بہرحال تاوان واجب ہے اور اس صورت میں دُھلائی کا بھی مستحق نہیں ۔ (1) ہاں! اگر اَجیرِمُشترک کے کسی فعل کے بغیر وہ چیز ضائع ہو گئی تو اس بارے میں اَجیر کے صالح ، فاسِق اور مستور الحال (جس کا صالح یا فاسق ہونا معلوم نہ ہو) ہونے کے اِعتبار سے مختلف اَحکام ہیں ۔
خاص پوچھی گئی صورت کا جواب یہ ہے کہ یہ اگر اَجیر مُشترک (جیسے عام دَرزی) تھا تو مِعیار کے مُطابق کام نہ کرنے کی دو صورتیں ہیں : (۱) کپڑا بالکل دُرُست نہ سیا تو اس صورت میں اس پر تاون ہوگا ۔ (۲) سیا تو دُرُست مگر ناپ میں ایک آدھ انگل کی کمی بیشی کر دی تو اس صورت میں تاوان نہیں ہوگا اور اُجرت کا مستحق ہوگا جیساکہ بہارِ شریعت میں ہے : درزی سے کہہ دیا کہ اتنا لمبا اور اتنا چوڑا ہو گا اور اتنی آستین ہو گی مگر سی کر لایا تو اس سے کم ہے جتنا بتایا اگر ایک ایک آدھ انگل کم ہے معاف ہے اور زیادہ کم ہے تو اسے تاوان دینا پڑے گا ۔ (2)
________________________________
1 - بہارِ شریعت ، ۳ / ۱۵۶ ، حصہ : ۱۴
2 - بہارِ شریعت ، ۳ / ۱۳۳ ، حصہ : ۱۴