Brailvi Books

مدنی مذاکرہ قسط42: درزیوں کے بارے میں سُوال جواب
50 - 81
	کہ میں درزی کا کام کرتا ہوں ، کپڑوں کی کٹائی کرتا ہوں اور پھر جتنی  اُجرت میں نے وُصُول کی ہوتی ہے  اس سے کم اُجرت میں (دوسرے کو سِلائی کے لیے ) دے دیتا ہوں تو انہوں نے کہا :  کیا تم ان کپڑوں میں کچھ کام (محنت و کوشش) بھی کرتے ہو؟  فرماتے ہیں :  میں نے کہا :  ہاں ! میں کپڑوں کو کاٹتا ہوں اورپھر آگے دے دیتا ہوں ۔  انہوں نے کہا :  اِس میں حَرج نہیں ۔  (1) 
غیر مِعیاری کپڑے تیار کرنے میں تاوان کی صورت
سوال :  کاریگر بسااوقات ہمارے مِعیار کے مُطابق مال تیار نہیں کرتے تو کیا اس صورت میں ہم ان سے تاوان (یعنی جرمانہ) لے سکتے ہیں؟نیز اگر دَرزی کپڑے خراب کر دے  تو اس سے  رقم وُصُول کر سکتے ہیں یا نہیں؟
جواب : اِس مسئلے میں اَجیرِ خاص اور اَجیرِ مُشترک کے اَحکام جُدا جُدا ہیں ۔  وہ اَجیرجو کسی خاص وقت میں ایک ہی شخص کے کام کرنے کا پابند ہو ’’اَجیرِ خاص‘‘ کہلاتا ہے جیسے دَرزی حضرات تنخواہ دے کر اپنے پاس کاریگر رکھتے ہیں ، اور   وہ اَجیر جس کے لئے  کسی خاص وقت میں فَردِ واحد کا کام کرنا ضَروری نہ ہو اور عام لوگوں کا کام بھی کر سکتا ہو تو اسے ’’اَجیرِ مشترک یا اَجیرِ عام‘‘کہتے ہیں جیسے  وہ دَرزی جس سے  عام لوگ اپنے کپڑے  سِلواتے ہیں ۔  



________________________________
1 -    مصنف ابن ابی شیبه ، كتاب البيوع والاقضية ، الرجل يدفع الی الخياط...الخ ، ۵  / ۱۴ ، حدیث : ۳   دار الفکر بیروت