پاک میں ہے کہ جب کوئی شخص اپنے بھائی سے وعدہ کرے اور اس کی نیَّت پورا کرنے کی ہو پھر پورا نہ کر سکے تو اُس پر گناہ نہیں ۔ (1)
اِسحدیثِ پاک کے تحت مُفَسّرِشہیر ، حکیمُ الاُمَّت حضرت ِ مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : حدیث کا مطلب یہ ہے کہ اگر وعدہ کرنے والا پورا کرنے کا اِرادہ رکھتا ہو مگر کسی عُذر یا مجبوری کی وجہ سے پورا نہ کرسکے تو وہ گناہ گار نہیں ، یو ں ہی اگر کسی کی نیَّت وعدہ خِلافی کی ہو مگر اِتفاقاً پورا کر دے تو گنہگار ہے اُس بَدنیّتی کی وجہ سے ۔ ہر وعدے میں نیّت کا بڑا دَخل ہے ۔ (2)
حسد ، وعدہ خلافی ، جھوٹ ، چغلی ، غیبت و تہمت
مجھے ان سب گناہوں سے ہو نفرت یارسولَ اللّٰہ (وسائلِ بخشش)
بروکر کو کمیشن دینے کی جائز صورت
سوال : کچھ لوگ ہمارے پاس گاہک لے کر آتے ہیں اور اس کے عِوض ہم سے کمیشن مانگتے ہیں جبکہ گاہک کو کچھ پتا نہیں ہوتا تو کیا اس صورت میں ہم ان کو کمیشن دے سکتے ہیں؟
جواب : جن لوگوں سے پہلے سے طے کر رکھا ہے کہ گاہک لانے پر آپ کو اتنا کمیشن ملے گا تو کمیشن کا لین دَین بعض صورتوں میں جائز ہو گا اور بعض میں ناجائز ۔
________________________________
1 - ابوداود ، كتاب الادب ، باب فی العدة ، ۴ / ۳۸۸ ، حدیث : ۴۹۹۵
2 - مراٰةالمناجیح ، ۶ / ۴۹۲ضیاء القران پبلی کیشنز مرکزالاولیا لاہور