جائز کی صورت یہ ہے کہ کمیشن لینے والے گاہک پر برابر محنت کریں ، اپنا وقت یا سرمایہ صَرف کریں کہ جس سے دوڑ دھوپ کرنا ثابت ہوتا ہو تو اس صورت میں بروکر کا گاہک لانے پر کمیشن لینا جائز ہو گا اور اس کے بَرخلاف اگر کسی نے خود آ کراس بروکر سے پوچھا کہ کون سا دَرزی آج کل صحیح ہے تو بروکرنے کہہ دیا : فُلاں دَرزی تومحض اِس مشورہ پر کمیشن لینے کا حق دار نہیں ہوگا جیساکہ فتاویٰ رضویہ میں ہے : ” اگر کسی کارندے (یعنی کام کرنے والے ) نے اس کام کے سلسلے میں جودوڑ دھوپ کی وہ اپنے آقا کی طرف سے تھی ، بیچنے والے کی طرف سے نہ تھی اگرچہ بعض زبانی باتیں بیچنے والے کی طرف سے بھی کی ہوں مثلاً آقا کو مشورہ دیا کہ یہ چیز اچھی ہے ، خرید لینی چاہیے یا اس میں آپ کا نقصان نہیں اور مجھے اتنے روپے مل جائیں گے اور سیٹھ نے خرید لی تو کارندہ (یعنی کام کرنے والا) بیچنے والے کی طرف سے کسی اُجرت کا مستحق نہیں کہ اُجرت آنے جانے ، محنت کرنے کی ہوتی ہے نہ کہ بیٹھے بیٹھے دو چار باتیں کہنے ، صلاح بتانے ، مشورہ دینے کی ۔ ہاں! اگر بیچنے والے کی طرف سے دوڑ دھوپ میں اپنا وقت صَرف کیا تو صرف اُجرتِ مثل کا حقدار ہوگا یعنی ایسے کام کے لیے اتنی کوشش کرنے پر جو مزدوری ہوتی ہے اس سے زائد نہ پائے گا اگرچہ بیچنے والے سے اس سے زیادہ کاطے ہوا ہو اور اگر کارندے (یعنی کام کرنے والے ) سے اُجرتِ مثل سے کم میں طے ہوا تھا تو جو طے ہوا تھا وہی ملے گا کہ یہ کمی کارندے کی اپنی