Brailvi Books

مدنی مذاکرہ قسط42: درزیوں کے بارے میں سُوال جواب
46 - 81
	 کرنا پڑتا ہے اور مسلمانوں کو تکلیف پہنچانا حرام ہے ۔ حدیثِ پاک میں ہے  :  جس نے کسی مسلمان کو اَذِیَّت دی اُس نے مجھے اَذِیَّت دی اور جس نے مجھے اَذِیَّت دی اُس نے بِلاشُبہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کو اَذِیَّت دی ۔  (1) لہٰذا دَرزیوں کو اپنے گاہکوں کے ساتھ کئے گئے وعدے  کی  پاسداری کرتے ہوئے وقتِ مقررہ پر کپڑے تیار کر کے  ان کے حوالے کر دینے چاہییں ۔  اِرشادِ ربّ العباد ہے  : 
وَ اَوْفُوْا بِالْعَهْدِۚ-اِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْـٴُـوْلًا (۳۴) (پ۱۵ ، بنی اسرائیل : ۳۴) 
ترجمۂ کنز الایمان : اور عہد پورا کرو  بیشک عہد سے سوال ہونا ہے  ۔ 
 گاہک سے کپڑا وُصُول کرتے وقت اگر غالِب گمان یہ تھا کہ وقتِ مُقَرَّرہ پر دے دوں گا اور اس کے لئے کوشش بھی کی  لیکن پھربھی وقت پر نہ دے سکا تو اب یہ وعدہ خِلافی نہیں کیونکہ کپڑالیتے وقت عموماً غالِب گمان پرہی واپس کرنے کا  وقت دیا جاتا ہے اور اگر کپڑا لیتے وقت غالِب گمان یہ تھا کہ اس وقت تک سوٹ تیار نہ ہو سکے گا پھر بھی چپکے سے لے لیا اس صورت میں شَرعاً یہ دَرزی  گنہگار ہوگا کہ وعدہ پورا کرنے کی اس کی نیت ہی  نہ تھی ۔ حُضُورپُرنور ، شافع یومُ النشور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّمنے اِرشاد فرمایا : وعدہ خِلافی یہ نہیں کہ آدمی وعدہ کرے اور اس کی نیَّت اسے پورا کرنے کی بھی ہو بلکہ وعدہ خِلافی یہ ہے کہ آدمی وعدہ کرے اور اس کی نیّت اسے پورا کرنے کی نہ ہو ۔  (2) ایک اور حدیثِ



________________________________
1 -    مُعجمِ اوسط ، باب السین ، من اسمه سعید ، ۲  / ۳۸۶ ، حدیث : ۳۶۰۷ دار الکتب العلمية  بیروت 
2 -    الجامع لاخلاق الراوی  وآداب السامع ، املاء الحدیث...الخ ، ص ۳۱۵ ، رقم : ۱۱۶۸ دار ابن الجوزی الدمام