15 محرم الحرام کاوقت دیتے ہوئے آپ کے دِل میں نیت یہی تھی کہ مجھے اس تاریخ میں کپڑا سی کر دے دینا ہے تب تو آپ اپنی جگہ صحیح ہیں اور بات بھی دُرُست ہے ۔ اب کسی وجہ سے 15تاریخ سے تاخیر ہوجائے تو آپ پر کوئی گناہ نہیں اوراگرآپ نے 15 محرم الحرام کی تاریخ دے کر جیسے تیسے کام تو لے لیامگراس مُقَرَّرہ تاریخ پر کام حوالے کرنے کی نیت نہ تھی بلکہ اس کو ٹَرخانے اور دھکے کھلانے کی نیت تھی تو آپ فسادِ نیت کی وجہ سے گنہگارہوں گے ۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!یہ بات ذہن میں رکھ کرکسی کو وقت دیں گے تو اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ گناہ سے بچت رہے گی ۔ رہی بات حالات کے خراب ہونے کی توحالات ہر روز خراب نہیں ہوتے ۔ اگر آپ کے علاقے میں حالات خراب تھے تو گاہک کو پتا ہوگا کہ اتنے دن سے حالات خراب ہیں ، دُکان بند پڑی ہے ، روز ہڑتالیں ہورہی ہیں تو ایسی صورتِ حال میں گاہک کوسمجھانا اِتنا دُشوار نہیں ہوتا بشرطیکہ سمجھانا بھی آتا ہو اوراگرسمجھانا نہیں آتا اور اَبے تبے کر کے بات کی تو آپ سو فیصدی سچے بھی ہوں گے تب بھی وہ آپ کی بات پریقین نہیں کرے گا اور یہی خیال کرے گا کہ آپ خواہ مخواہ ٹالم ٹول کر رہے ہیں لہٰذا اپناکردار اور گفتار کو ستھرا رکھیے اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ گاہک مان جائے گا ۔
اَخلاق ہوں اچھے مِرا کردار ہو ستھرا
محبوب کا صَدقہ تو مجھے نیک بنا دے (وسائلِ بخشش)