نیکیوں کو لانے والا نہیں اور نہ ہی تیرے سِوا کوئی بُرائیوں کو دُور کرنے والا ہے اور سِوائے تیری توفیق کے کسی کے پاس کوئی قوت و طاقت نہیں ہے ۔ (1)
معلوم ہوا کہ بَدشگونی یا بَد فالی بُری چیز ہے جس سے اِجتناب کرنا چاہیے جبکہ نیک فال لینا پسندیدہ فِعل ہے جیساکہ اعلیٰ حضرت ، اِمامِ اَہلسنَّت مولاناشاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن نے فتاویٰ رضویہ جلد 9صَفْحَہ373پر ایک سُوال کے جواب میں اِرشاد فرمایا : ” (وقتِ دفن) بارشِ رَحمت فالِ حَسن ہے خُصُوصاً اگر خلافِ عادت ہو ۔ “اِسی طرح عقیقے کے بارے میں عُلَمائے کِرام فرماتے ہیں : بہتر یہ ہے کہ اس کی ہڈّی نہ توڑی جائے بلکہ ہڈّیوں پر سے گوشت اُتار لیا جائے کہ یہ بچے کی سلامتی کی نیک فال ہے اور ہڈّی توڑ کر گوشت بنایا جائے تو اس میں بھی حَرج نہیں ۔ گوشت کو جس طرح چاہیں پکا سکتے ہیں ، مگر میٹھا پکایا جائے تو بچہ کے اَخلاق اچھے ہونے کی فال ہے (2) ۔ (3)
پیشگی لی گئی رقم اِستعمال میں لانا کیسا؟
سوال : سوٹوں یا جیکٹوں کا وسیع پیمانے پر کام کرنے والے جب کسی پارٹی سے آرڈر بک
________________________________
1 - ابو داود ، كتاب الطب ، باب فی الطيرة ، ۴ / ۲۵ ، حدیث : ۳۹۱۹ دار احیاء التراث العربی بیروت
2 - بہارِ شریعت ، ۳ / ۳۵۷ ، حصہ : ۱۵
3 - ”بدشگونی “کے بارے میں مزید تفصیلات جاننے کے لیے دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی اِدارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ 126 صفحات پر مشتمل کتاب ”بَدشگونی “ کا مُطالعہ کیجیے ، اِنْ شَآءَ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ معلومات میں اِضافہ ہوگا ۔ (شعبہ فیضانِ مَدَنی مذاکرہ)